کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ کیا مدرسہ سے ان طلباء کا وظیفہ لینا جائز ہے اور اسی طرح کھانا، کھانا جو اگرچہ خود صاحب حیثیت نہیں،مگر کسی کے زیر سرپرستی مثلا والد، بھائی وغیرہ کے ہوں، جبکہ وہ سیدبھی نہ ہوں۔
۲۔ قبر میں حضورﷺ کی شبیہ آتی ہے یا صرف ان کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے؟
۳۔ کندھے پر رومال رکھنا کیسا ہے سنت ہے یا نہیں؟ نیز ہاتھ ملا کر سینہ پر رکھنا کیسا ہے؟
۱۔ مذکور قسم کے عاقل بالغ اور مستحق طلباء کرام کے لیے مدرسہ سے وظیفہ لینا اور کھانا، کھانا ہر دو امور جائز اور درست ہیں۔
۲۔ قبر میں حضورﷺ سے متعلق سوال ہونے اور احادیثِ مبارکہ سے آپ علیہ السلام کی شبیہ سامنے لانے کی تصریح بھی ملتی ہے، مگر شرّاحِ حدیث نے شبیہ والی حدیث کو ان لوگوں کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے، جنہوں نے حیاتِ مبارکہ میں آپ علیہ السلام کی زیارت کی ہو۔
۳۔ کندھے پر رومال رکھنا اگرچہ سنت نہیں، مگر نماز جیسی عبادت کے لیے اس قسم کے کسی کپڑے وغیرہ کا ساتھ رکھنا بلاشبہ محمود ہے، جبکہ مصافحہ کے بعد سینہ پر ہاتھ رکھنا بدعت ہے،جس سے احتراز چاہیے۔
ففی رد المحتار: فالتفسير بطالب العلم وجيه خصوصا وقد قال في البدائع في سبيل الله جميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله وسبيل الخيرات إذا كان محتاجا. اهـ. (2/ 343)
وفی حاشیة مشکاة: عبر بذلك امتحاناً لِئَلَّا يَتَلَقَّن تَعْظِيمه من عبارَة القائل قيل يكْشف للْمَيت حَتَّى يرى النَّبِي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِي بشرى عَظِيمَة لِلْمُؤمنِ ان صَحَّ ذَلِك وَلَا نعلم حَدِيثا صَحِيحا مرويا فِي ذَلِك وَالْقَائِل بِهِ انما اسْتندَ لمُجَرّد ان الْإِشَارَة لَا تكون الا للحاضر لَكِن يحْتَمل ان يكون الْإِشَارَة لما فِي الذَّهَب ليَكُون مجَازًا اھ(۱/۲۴)
وفی مرقاة المفاتيح: قال ابن حجر: ولا يلزم من الإشارة ما قيل من رفع الحجاب بين الميت وبينه - صلى الله عليه وسلم - حتى يراه ويسأل عنه، لأن مثل ذلك لا يثبت بالاحتمال على أنه مقام امتحان، وعدم رؤية شخصه الكريم أقوى في الامتحان. قلت: وعلى تقدير صحته يحتمل أن يكون مفيدا لبعض دون بعض، والأظهر أن يكون مختصا بمن أدركه في حياته عليه الصلاة والسلام وتشرف برؤية طلعته الشريفة. (1/ 205)
و فی مسند أحمد: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةُ» اھ(21/ 472) واللہ أعلم بالصواب!
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0