احوال قبر

مردوں کا زندہ لوگوں کی آواز سننا - سلام کا جواب دینا

فتوی نمبر :
60787
| تاریخ :
2010-11-28
عقائد / قیامت و آخرت / احوال قبر

مردوں کا زندہ لوگوں کی آواز سننا - سلام کا جواب دینا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قبر والے زندہ لوگوں کی آواز سن سکتے ہیں؟ اور سلام کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

متعدد احادیث کی روشنی میں علماء کے اقوال سے ثابت ہے کہ فی الجملہ قبروالے زندہ لوگوں کی آواز سن سکتے ہیں اور سلام کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مرقاة المفاتيح: أما الحقيقة فإنه تعالى قادر و هو كإحيائه في القبر ليسأل، بل قد أثبت - صلى الله عليه وسلم - السمع للميت قبل إتيان الملكين حيث قال: إنه ليسمع قرع نعالهم، أتاه ملكان، أو المجاز باعتبار ما يؤول إليه بعد الإدخال والسؤال في القبر اهـ. والثاني: لا يظهر وجهه، فالمعول هو الأول. (3/ 1192)۔
و فیه أیضاً: إذ ثبت بالأحاديث أن الميت يعلم من يكفنه و من يصلي عليه و من يحمله و من يدفنه، وقال ابن الملك: أي صوت دقها، و فيه دلالة على حياة الميت في القبر لأن الإحساس بدون الحياة ممتنع عادة، و اختلفوا في ذلك فقال بعضهم: يكون بإعادة الروح، و توقف أبو حنيفة في ذلك اهـ. (1/ 204)۔
و فیه أیضاً:أن الميت أهل للخطاب مطلقا، لما سبق من الحديث: ’’«ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام»‘‘ (4/ 1257)۔
و فی التفسير المظهري: عن انس بن مالك ان رسول الله -صلى الله عليه وسلم - ترك قتلى بدر ثلاثة ايام حتى جيفوا ثم أتاهم فقام يناديهم فقال يا امية بن خلف يا أبا جهل بن هشام يا عتبة بن ربيعة هل وجدتم ما وعد ربّكم حقّا فسمع عمر صوته فجاء فقال يا رسول الله تناديهم بعد ثلاث و هل يسمعون يقول الله إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى فقال و الّذى نفسى بيده ما أنتم باسمع منهم و لكنهم لا يطيقون ان يجيبوا- و روى مثله عن ابن عمر قلت إذا صح عن النبي صلى الله عليه وسلم ان الموتى تسمع كلام الحي فمعنى قوله تعالى إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى باختيارك و قدرتك كما أنت تسمع الحىّ على ما جرى به عادة الله تعالى لكن الله تعالى يسمع الموتى كلام الاحياء إذا شاء او انك لا تسمع الموتى سماعا تترتب عليه الفائدة اھ(7/ 242)۔
و فی تفسير روح المعاني: و الحق أن الموتى يسمعون في الجملة الخ (11/ 57)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60787کی تصدیق کریں
0     596
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عقیدہ حیات النبی ، کیا نبی اکرم ﷺ روضہ مبارک میں زندہ ہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   احوال قبر 0
  • قبر میں حضورؑ کی شبیہ آتی ہے یا فقط سوال ہوتا ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر - برزخ میں جسمِ خاکی اور روح کے درمیان تعلق کی نوعیت

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مردوں کا زندہ لوگوں کی آواز سننا - سلام کا جواب دینا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • روزہ میں انجیکشن یا ڈرپ لگوانا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر اور منکر نکیر کا سوال کرنا برحق ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • اگر عورت قبر پر جائے تو کیا وہ مردوں کو بغیر کپڑوں کے نظر آتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • آپ علیہ السلام سے متعلق قبر مبارک میں دنیاوی حیات جیسی حیات کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • جزاء وسزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا تو پھر عذابِ قبر کیوں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • میری بیٹی مرد حضرات کی طرح رمضان میں تراویح سناسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • زندگی میں قبر کے لیے جگہ خریدنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر پر جاکر تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • حضور علیہ السلام سے متعلق عام انسانوں سے بڑھ کر دیکھنے یا سننے کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • شیخ عمر بکری کا نظریہ اور عقیدۂ عذابِ قبر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر کا اثبات اور عالمِ برزخ سے مراد

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • منکرین عذابِ قبر سے متعلق شرعی نقطہ نظر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مزاروں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں جھک کر سلام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کیا رمضان میں انتقال کرنے والا شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
Related Topics متعلقه موضوعات