احوال قبر

شیخ عمر بکری کا نظریہ اور عقیدۂ عذابِ قبر

فتوی نمبر :
60857
| تاریخ :
2002-04-19
عقائد / قیامت و آخرت / احوال قبر

شیخ عمر بکری کا نظریہ اور عقیدۂ عذابِ قبر

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہاں برطانیہ میں ایک گروہ ہے جو مہاجر کہلاتا ہے، جو دعویٰ کرتا ہے کہ ان کے پاس ایک عالم استاد عربی شیخ عمر بکری ہے، انکا دعوی ہے کہ وہ مجتہد مروّجہ ہے ، وہ اپنے اصولِ فقہ جانتا ہے پوری طرح، وہ ایک شافعی مسلک ہے، لیکن وہ حنفی کی تعلیم دیتا ہے، اس کے عقائد میں ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ قبر کا عذاب عقیدے کے طور پر نہیں لیا جاسکتا، کیونکہ تمام احادیث جو عذابِ قبر سے متعلق ہیں وہ اخبارِ احاد ہیں اور خبرواحد کو عقیدے کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔
یہ مسئلہ ایک بڑے فتنہ کو جنم دے رہا ہے اور علماءِ دیوبند کےلیے مسئلہ بن رہا ہے، یہ عوام الناس کو الجھا رہا ہے کوئی ان کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا ہے۔
کیا آپ درست مستند اور تفصیلی حل دے سکتے ہیں اس مسئلہ کےلیے؟ یک طرفہ شہادتیں نہیں چاہیۓ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اہلِِ سنت والجماعت، چاہے احناف، شوافع، مالکیہ، اور حنبلی المذہب ہوں یا ان کے علاوہ دوسرے مذاہبِ حقہ کے پیروکار ، سب کا متفقہ عقیدہ ہے کہ عذابِ قبر حق ہے اور یہ عقیدہ آیاتِ قرآنیہ، احادیث صحیحہ کثیرہ سے ثابت اور مؤیّد ہے، چند آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ صحیحہ درجِ ذیل ہیں، ان سے بخوبی معلوم ہو جائیگا کہ سوال میں مذکور شخص ’’شیخ عمر بکری‘‘ کا اگر واقعۃً سوال میں مذکور نظریہ ہو تو اس کا ائمہ اربعہ، بلکہ اہلِ سنت والجماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے،وہ ’’خارجی یا معترلی‘‘ ہے جو تمام لوگوں کے عقائد و نظریات کو خراب کرنے کے لیے اپنے آپ کو شوافع میں سے ظاہر کر رہا ہے اور اسی شکل میں رہتے ہوئے وہ احادیثِ صحیحہ اور قرآن کے انکار کا مرتکب ہو رہا ہے، لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے خبیث الاعتقاد شخص سے (جب تک کہ وہ اپنے اس گمراہ کن نظریہ سے باز نہ آئے اور اپنی تحریروں کو اہلِ سنت والجماعت کے عقیدہ کے موافق نہ کرے تو اس وقت تک اس سے ) علمی قطع تعلق کریں اس طور پر کہ عوام اس کی تحریرات پڑھنے سے مکمل اجتناب کریں اور اہلِ علم طبقہ ہمارے اس جواب کے موافق قرآن وسنت کے صحیح دلائل بیان کرنے کے ذریعہ اس کے باطل عقائد کی تردید کرتے ہوئے عوام کو بھی درست مسئلہ سمجھائے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾(الأنعام: 93)۔
و قال أیضاً: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾ (الأنفال: 50)۔
وقال أیضاً: ﴿وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ، النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَاب﴾ (غافر: 45، 46)۔
وفی تفسير ابن كثير: ﴿وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ﴾ وَهُوَ: الْغَرَقُ فِي الْيَمِّ، ثُمَّ النَّقْلَةُ مِنْهُ إِلَى الْجَحِيمِ. فَإِنَّ أَرْوَاحَهُمْ تُعْرَضُ عَلَى النَّارِ صَبَاحًا وَمَسَاءً إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ اجْتَمَعَتْ أَرْوَاحُهُمْ وَأَجْسَادُهُمْ فِي النَّارِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: {وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} أَيْ: أَشَدَّهُ أَلَمًا وَأَعْظَمَهُ نَكَالًا. وَهَذِهِ الْآيَةُ أَصْلٌ كَبِيرٌ فِي اسْتِدْلَالِ أَهْلِ السُّنَّةِ عَلَى عَذَابِ الْبَرْزَخِ فِي الْقُبُورِ، وَهِيَ قَوْلُهُ: ﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا﴾.(7/ 146)۔
وفی صحيح مسلم: عن ابن عمر، قال: قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: " إذا مات الرجل عرض عليه مقعده بالغداة والعشي، إن كان من أهل الجنة فالجنة، وإن كان من أهل النار فالنار، قال: ثم يقال: هذا مقعدك الذي تبعث إليه يوم القيامة "(4/ 2199)۔
و فيه ايضا: عن أنس، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «لولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم من عذاب القبر»(4/ 2200)۔
و فيه أیضاً: عن أبي أيوب، قال: خرج رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بعد ما غربت الشمس فسمع صوتا، فقال: «يهود تعذب في قبورها»(4/ 2200)۔
وفی سنن الترمذي: عن ابن عمر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إذا مات الميت عرض عليه مقعده، إن كان من أهل الجنة فمن أهل الجنة، وإن كان من أهل النار فمن أهل النار، ثم يقال: هذا مقعدك حتى يبعثك الله يوم القيامة. وهذا حديث حسن صحيح. (2/ 375)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس قال مر النبي - صلى الله عليه وسلم - بقبرين فقال إنهما ليعذبان وما يعذبان في كبير أما أحدهما فكان لا يستتر من البول - وفي رواية لمسلم: لا يستنزه من البول - وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة ثم أخذ جريدة رطبة فشقها نصفين ثم غرز في كل قبر واحدة قالوا يا رسول الله لم صنعت هذا قال لعله يخفف عنهما ما لم ييبسااھ (متفق عليه) (1/ 110)۔
و فی شرح النووي على صحیح مسلم: وَأَمَّا قَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ فَرُوِيَ ثَلَاث رِوَايَاتٍ يَسْتَتِرُ بِتَائَيْنِ مُثَنَّاتَيْنِ وَيَسْتَنْزِهُ بِالزَّايِ وَالْهَاءِ وَيَسْتَبْرِئُ بِالْبَاءِ الْمُوَحَّدَةِ وَالْهَمْزَةِ وَهَذِهِ الثَّالِثَةُ فِي صحیح الْبُخَارِيِّ وَغَيْرِهِ وَكُلُّهَا صَحِيحَةٌ وَمَعْنَاهَا لَا يَتَجَنَّبُهُ وَيَتَحَرَّزُ مِنْهُ (إلی قوله) وَاسْتَحَبَّ الْعُلَمَاءُ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِهَذَا الْحَدِيثِ لِأَنَّهُ إِذَا كَانَ يُرْجَى التَّخْفِيفُ بِتَسْبِيحِ الْجَرِيدِ فَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ أَوْلَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ ذَكَرَ الْبُخَارِيُّ فِي صَحِيحِهِ أَنَّ بُرَيْدَةَ بْنَ الْحَصِيبِ الْأَسْلَمِيَّ الصَّحَابِيَّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَوْصَى أَنْ يُجْعَلَ فِي قَبْرِهِ جَرِيدَتَانِ فَفِيهِ أَنَّهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَبَرَّكَ بِفِعْلٍ مِثْلِ فِعْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَنْكَرَ الْخَطَّابِيُّ مَا يَفْعَلُهُ النَّاسُ عَلَى الْقُبُورِ مِنَ الْأَخْوَاصِ وَنَحْوِهَا مُتَعَلِّقِينَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ لَا أَصْلَ لَهُ وَلَا وَجْهَ لَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا فِقْهُ الْبَابِ فَفِيهِ إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ وَهُوَ مَذْهَبُ أَهْلِ الْحَقِّ خِلَافًا لِلْمُعْتَزِلَةِ الخ (3/ 202،201)۔
و فی فتح الباري لابن حجر: وقال إنه ثبت بإسناد صحيح وكأنه يشير إلى حديث أبي هريرة عند بن حبان وقد قدمنا لفظه ثم وجدته في مسند عبد بن حميد من طريق عبد الواحد بن زياد عن الأعمش في حديث بن عباس صريحا الخ (1/ 322)۔
وفی مشكاة المصابيح: عن زيد بن ثابت قال بينما النبي - صلى الله عليه وسلم - في حائط لبني النجار على بغلة له ونحن معه إذ حادت به فكادت تلقيه وإذا أقبر ستة أو خمسة أو أربعة قال كذا كان يقول الجريري فقال: «من يعرف أصحاب هذه الأقبر فقال رجل أنا قال فمتى مات هؤلاء قال ماتوا في الإشراك فقال إن هذه الأمة تبتلى في قبورها فلولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم من عذاب القبر الذي أسمع منه ثم أقبل علينا بوجهه فقال تعوذوا بالله من عذاب النار قالوا نعوذ بالله من عذاب النار فقال تعوذوا بالله من عذاب القبر قالوا نعوذ بالله من عذاب القبر الخ. رواه مسلم(1/ 46)۔
وفیها ايضا: عن أبي هريرة قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «إذا قبر الميت أتاه ملكان أسودان أزرقان يقال لأحدهما المنكر والآخر النكير(إلی قوله) فيقال للأرض التئمي عليه فتلتئم عليه فتختلف فيها أضلاعه فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك» . رواه الترمذي (1/ 46)۔
وفيها أیضاً: ويضرب بمطارق من حديد ضربة فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين» ولفظه للبخاري(1/ 45)۔
و فی موارد الظمآن: عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ وَهُوَ يَقُولُ: "اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وللقبر عَذَاب قَالَ: "نعم إِنَّهُم ليعذبون فِي قُبُورهم تسمعه الْبَهَائِم". (ص: 200)۔
و فی شرح النووي على مسلم: اعْلَمْ أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ وَقَدْ تَظَاهَرَتْ عَلَيْهِ دَلَائِلُ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غدوا وعشيا الْآيَةَ وَتَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رِوَايَةِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فى مواطن كثيرة ولايمتنع فِي الْعَقْلِ أَنْ يُعِيدَ اللَّهُ تَعَالَى الْحَيَاةَ فِي جُزْءٍ مِنَ الْجَسَدِ وَيُعَذِّبُهُ وَإِذَا لَمْ يَمْنَعْهُ الْعَقْلُ وَ وَرَدَ الشَّرْعُ بِهِ وَجَبَ قَبُولُهُ وَ اعْتِقَادُهُ وَقَدْ ذَكَرَ مُسْلِمٌ هُنَا أَحَادِيثَ كَثِيرَةً فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَسَمَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ مَنْ يُعَذَّبُ فِيهِ وَسَمَاعِ الْمَوْتَى قَرْعَ نِعَالِ دَافِنِيهِمْ وَكَلَامِهُ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَهْلِ الْقَلِيبِ وَقَوْلِهُ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَسُؤَالِ الْمَلَكَيْنِ الْمَيِّتَ وَإِقْعَادِهِمَا إِيَّاهُ وَجَوَابِهُ لَهُمَا وَالْفَسْحِ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَعَرْضِ مَقْعَدِهِ عَلَيْهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ وَسَبَقَ مُعْظَمُ شَرْحِ هَذَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ وَكِتَابِ الْجَنَائِزِ وَالْمَقْصُودُ أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ كَمَا ذَكَرْنَا خِلَافًا لِلْخَوَارِجِ وَمُعْظَمِ الْمُعْتَزِلَةِ وَبَعْضُ الْمُرْجِئَةِ نَفَوْا ذَلِكَ. (17/ 200)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60857کی تصدیق کریں
0     927
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عقیدہ حیات النبی ، کیا نبی اکرم ﷺ روضہ مبارک میں زندہ ہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   احوال قبر 0
  • قبر میں حضورؑ کی شبیہ آتی ہے یا فقط سوال ہوتا ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر - برزخ میں جسمِ خاکی اور روح کے درمیان تعلق کی نوعیت

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مردوں کا زندہ لوگوں کی آواز سننا - سلام کا جواب دینا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • روزہ میں انجیکشن یا ڈرپ لگوانا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر اور منکر نکیر کا سوال کرنا برحق ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • اگر عورت قبر پر جائے تو کیا وہ مردوں کو بغیر کپڑوں کے نظر آتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • آپ علیہ السلام سے متعلق قبر مبارک میں دنیاوی حیات جیسی حیات کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • جزاء وسزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا تو پھر عذابِ قبر کیوں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • میری بیٹی مرد حضرات کی طرح رمضان میں تراویح سناسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • زندگی میں قبر کے لیے جگہ خریدنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • حضور علیہ السلام سے متعلق عام انسانوں سے بڑھ کر دیکھنے یا سننے کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر پر جاکر تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • شیخ عمر بکری کا نظریہ اور عقیدۂ عذابِ قبر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر کا اثبات اور عالمِ برزخ سے مراد

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • منکرین عذابِ قبر سے متعلق شرعی نقطہ نظر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مزاروں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں جھک کر سلام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کیا انبیاءؑ کی اپنی قبور میں حیات ، حیات ِدنیوی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کیا رمضان میں انتقال کرنے والا شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
Related Topics متعلقه موضوعات