محترم جناب مفتی صاحب! میرا آفس کلفٹن میں ہے اور میرے راستے میں دو مزار پڑتے ہیں،اکثر میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ مزار کے پاس سے گزرتے ہوئے مزار کی طرف سلام کے انداز میں اپنے ہاتھ سے سلام کرتے ہیں جیسے صاحب مزار کو سلام کر رہے ہوں،میرا سوال یہ ہے کہ آیا یہ شرعی طریقہ ہے سلام کا؟ تفصیلی جواب کا متمنی۔
مردوں کو سلام کرنے کا مذکور طریقہ شرعاً درست نہیں،البتہ اہل مقابر کو سلام کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب قبرستان سے گزرے تو " السلام علیکم دار قوم مؤمنین و انا انشاء اللہ بکم لاحقون و نسال اللہ لنا و لکم العافیہ" پڑھے۔
کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : ومن آدابها أن يسلم بلفظ: السلام عليكم على الصحيح، لا عليكم السلام فإنه ورد: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإنا - إن شاء الله - بكم لاحقون، ونسأل الله لنا ولكم العافية» اھ (2/ 242)
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0