السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ زید نے حج کے لیے پیسے جمع کیے اور وہ حج کے لیے جانا چاہتا ہے ،مگر لوگ کہتے ہیں کہ پہلے اپنے والد کو حج کروانا ضروری ہے بعد میں خود کرے ،اس کاکیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ حج کی ادائیگی کے لیے پہلے اپنے والد کو حج کرانا کوئی لازم نہیں ،لہٰذا اگر زید حج پر جانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس پر فریضۂ حج کی ادائیگی لازم ہے ،اگر چہ اس کے والد نے حج نہ کیا ہو ۔
کما قال اللہ تعالی : وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (آل عمران /97)۔
و فی تبیین الحقائق : (قوله وقدرة زاد وراحلة) أي حتى لو كان عادته سؤال الناس والمشي ولم يكن له زاد ولا راحلة لا يجب عليه وبه قال الشافعي وابن حنبل. اھ(2/235)۔