احکام حج

کیا فرضیت حج کے بعد پہلے والد کو حج کروانا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
34247
| تاریخ :
2018-05-01
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

کیا فرضیت حج کے بعد پہلے والد کو حج کروانا ضروری ہے؟

السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ زید نے حج کے لیے پیسے جمع کیے اور وہ حج کے لیے جانا چاہتا ہے ،مگر لوگ کہتے ہیں کہ پہلے اپنے والد کو حج کروانا ضروری ہے بعد میں خود کرے ،اس کاکیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حج کی ادائیگی کے لیے پہلے اپنے والد کو حج کرانا کوئی لازم نہیں ،لہٰذا اگر زید حج پر جانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس پر فریضۂ حج کی ادائیگی لازم ہے ،اگر چہ اس کے والد نے حج نہ کیا ہو ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی : وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (آل عمران /97)۔
و فی تبیین الحقائق : (قوله وقدرة زاد وراحلة) أي حتى لو كان عادته سؤال الناس والمشي ولم يكن له زاد ولا راحلة لا يجب عليه وبه قال الشافعي وابن حنبل. اھ(2/235)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 34247کی تصدیق کریں
0     476
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات