کیا قرآن کے بوسیدہ یا ضعیف اوراق کو جلاکر زمین میں راکھ دبائی جاسکتی ہے؟
مقدس اوراق کے متعلق اصل حکم تو یہ ہے کہ انہیں کسی محفوظ جگہ دفن کیا جائے یا بہتے ہوئے صاف پانی میں بہادیا جائے اگر یہ صورتیں ممکن نہ ہوں تو بامر مجبوری ان کو حفاظت کی غرض سے جلانے کی بھی گنجائش ہے مگر سخت مجبوری کے بغیر ایسا کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔
کما فی الدر المختار: المصحف إذا صار بحال لا یقرأ فیہ یدفن کالمسلم۔ الخ (ج۱، ص۱۷۷)
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ یدفن) (الی قولہ) وأما غیرہ من الکتب فسیأتی فی الحظر والاباحۃ أنہ یمحی عنہا اسم اللہ تعالٰی وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ہی أو تدفن وہو أحسن۔ اھـ (ج۱، ص۱۷۷) واللہ اعلم بالصواب
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0