کیا قرآن پاک کے لیے وضو ضروری ہے؟ ایک دیوبندی عالم دین نے کہا کہ جائز ہے، لیکن عادت نہ بنالی جائے، فیصل آباد کے ہیں وہ، اور کہا کہ قرآن پاک کی آیت کو ہاتھ نہیں لگنا چاہیے، بس کنارے سے کھول کر پڑھتے رہو۔ اس بارے میں وضاحت کیجیے۔
بغیر وضو کے قرآن کریم کا مَس کرنا اس طرح بھی جائز نہیں، اس سے بھی احتراز لازم ہے، البتہ دورانِ تلاوت اگر وضو ٹوٹ جائے اور فوری طور پر وضو بنانے کا انتظام نہ ہوسکتا ہو تو اس صورت میں اپنے پاس موجود رومال یا قرآنِ کریم کے غلاف وغیرہ کے ذریعہ بھی صرف ورق پلٹ سکتے ہیں۔
كما فی التفسیر المظهری تحت هذه الآیة لا یمسّه الّا المطهّرون قال وقد انعقد الاجماع علی أنه لا یجوز مس المصحف للجنب والحائض ولا لنفساء ولا لمحدث الخ. (ج۹، ص۱۸۱)
وایضًا: یكره مسّه بالكم او الذیل لا منهما تابعان للید لا یجوز مس درهم فیه سورة الا بصرة لان المصحف ما كتب علیه القرآن. الخ (ج۹، ص۱۸۲)
وفی الهدایة: وكذا المحدث لا یمس المصحف الا بغلافه لقوله علیه السلام لا یمس القرآن الا طاهرا. الخ (ج۱، ص۶۴)
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0