احکام حج

دورانِ حج حدودِ منیٰ سے باہر قیام کرنا

فتوی نمبر :
34746
| تاریخ :
2018-07-12
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

دورانِ حج حدودِ منیٰ سے باہر قیام کرنا

میں سعودی عرب میں کام کرتا ہوں ، اور میں نے دو سال پہلے حج کیا تھا، جب حج کی درخواست دیتے ہیں تو آپ نے تین اقسام میں سے ایک قسم اختیار کرنا ہوتا ہے (1) نارمل (Narmal fare)، (2) لوکاسٹ (low cost fare) ،(3) میاسر (Mayasir) ، جب میں نے حج کیا تو لو کاسٹ قسم کا حج کیا، پھر جب میں حج کو چلا گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ جس نے لوکاسٹ یا میاسر کا حج کیا ہے ان کے خیمے منیٰ کی حدود سے باہر ہیں ، جب میں نے کسی عالم سے اس مسئلہ کے بارے میں معلومات کیں تو انہوں نے ہمیں یہ فتویٰ دیا کہ یہ ایسا ہے کہ جس طرح نماز جماعت سے ہوتی ہے، یعنی جب مسجد صفوف سے بھری ہوئی ہو تو لوگ مسجد سے باہر صفوف بناتے ہیں اور ان کا حکم ایسا ہی ہوتا ہے جیسے مسجد ہی کے اندر ہوں، میں اس بارے میں آپ کی را ئے جاننا چاہتا ہوں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایامِ حج میں منیٰ کی حدود میں قیام کرنا مسنون ہے ، بلا کسی عذر کے اسے ترک کرنا درست نہیں ، البتہ اگر کوئی عذر ہو (جیساکہ مثلاً جگہ کی قلت ہو یا کوئی اور عذر ہو)یا لا علمی میں حدودِ منی سے باہر قیام کیا جائے تو ایسی صورت میں کوئی گناہ بھی نہ ہو گا اور حج کی ادائیگی متاثر نہ ہو گی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الصحیح لمسلم : عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ اعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِي مِنًى، مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ» اھ (2/953)۔
و فی الہدایۃ : ويكره أن لا يبيت بمنى ليالي الرمي " لأن النبي عليه الصلاة والسلام بات بها وعمر رضي الله عنه كان يؤدب على ترك المقام بها " ولو بات في غيرها متعمدا لا يلزمه شيء عندنا " اھ (1/147)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 34746کی تصدیق کریں
0     457
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات