میر ا سوال قصر نماز سے متعلق ہے، میرا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور میں اسلام آباد میں کام کرتا ہوں ، ملازمت کے سلسلہ میں کام کے پانچ دن اسلام آباد میں رہتا ہوں ، اور بقیہ دو دن ایبٹ آباد میں گزارتا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا کام کی جگہ اسلام آباد یا گھر میں قصر نماز ادا کروں گا یا پوری نماز ادا کروں گا؟
اگر سائل نے ایک دفعہ بھی پندرہ دن کی نیت سے اپنی مذکور جائے ملازمت (اسلام آباد) میں قیام نہ کیا ہو ، تو وہ اپنے علاقے ایبٹ آباد کی حدود سے نکلنے کے بعد مسافر شمار ہوگا اور جائے ملازمت میں بھی اپنی تنہاء نماز پڑھنے کی صورت میں قصر کرے گا ، جبکہ ابیٹ آباد میں بہر حال وہ پوری نماز ادا کرے گا ، اور اگر ایک مرتبہ بھی اسلام آباد میں پندرہ دن ٹھہر نے کی نیت سے قیام کیا ہو ، تو وہ اپنی جائے ملازمت اسلام آباد اور اپنے وطن اصلی " ایبٹ آباد " دونوں جگہ پوری نماز پڑھے گا ، البتہ راستہ میں آتے جاتے قصر کرے گا۔
و فی فتح القدير : (و لا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر ، و إن نوى أقل من ذلك قصر) اھ (2/ 34)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4