میری آپ سے گزارش ہے کہ مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے، مہربانی فرما کر راہنمائی فرمائیں ، گزارش یہ ہے میری کمپنی میں ہر سال قرعہ اندازی سے ایک ملازم کو حج کروایا جاتا ہے ، اس سال میرا نمبر ہے، مگر میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیوی کے ساتھ حج کروں،کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کے پیسے بھی کمپنی ادا کردے جو کہ اس وقت ان کو ادا کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہے اور بعد میں ہم ان کو ادا کر دیں؟
مذکور صورت میں سائل کے لیے کمپنی سے قرض لے کر اپنی بیوی کوحج پر ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں، اور اس طرح حج کر لینے سے سائل کی بیوی کا حج ادا ہو جائےگا۔
کما فی الفتاوی التاتارخانیۃ : من أمر غيره بحج التطوع جاز ذلك ويصير للأمر ثواب النفقة فى طريق الحج من حيث أنه سبب إلى الحج بالاتفاق، أو يصير المأمور جاعلا ثواب فعله اھ(3/647)۔
و فی الرد تحت قوله : (قوله وسعه أن يستقرض إلخ) وهذا يرد على القول الأول أیضاً إن كان المراد بقوله ولو غير قادر على وفائه أن يعلم أنه ليس له جهة وفاء أصلا أما لو علم أنه غير قادر فی الحال وغلب على ظنه أنه لو اجتهد قدر على الوفاء فلا يرد اھ (5/457)۔