احکام حج

قطروں کا مریض حج پر جانے کے لئے کیا کریں؟

فتوی نمبر :
37870
| تاریخ :
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

قطروں کا مریض حج پر جانے کے لئے کیا کریں؟

میں اس سال الحمدللہ حج پر جارہاہوں، مجھے پیشاب کے قطرے آنے کی بیماری ہے، میں تقریباً تمام نمازوں میں انڈر وئیر پہنتا ہوں اور نماز پڑھتا ہوں مجھے حج کے بارے میں مشورہ دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو پیشاب کے اگر قطرے اس قدر تسلسل سے نہ آتے ہوں، کہ اسے نماز کے پورے وقت میں صرف فرض نماز بھی کامل طہارت کے ساتھ پڑھنے کا موقع میسر نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ شرعاً معذور کے حکم میں داخل نہیں، لہٰذا سائل کو چاہیے کہ پیشاب کرنے کے بعد اطمینان کرلیا کرے، اور جب قطرے آنا بند ہوجائیں تو پھر وضو کرکے نماز پڑھنے کا اہتمام کیا کرے، جبکہ سائل کو اگر دوران طواف پیشاب کے قطرے آجائیں تو طواف کو موقوف کردے، اور وضو کے بعد وہاں سے طواف شروع کرے جہاں سے چھوڑا تھا، اگر بغیر وضو کے حج وعمرہ کا اکثر طواف یا پورا طواف کیا تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ دم دینا لازم ہوگا، لیکن اگر سائل کو پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کے ساتھ آتے ہوں کہ نماز کے پورے وقت اُسے کامل طہارت کے ساتھ فقط فرض نماز پڑھنے کا بھی موقع میسر نہ ہو تو ایسی صورت وہ شرعاٍ معذور کے حکم میں ہے، اور اس پر ہرنماز کیلئے وضور کرنا لازم ہوگا، اور اسی وضو سے وہ وقت کے اندر اندر فرائض، نوافل اور طواف وغیرہ ادا کرسکتاہے، البتہ سائل کو دوران طواف پیشاب کے قطرے کا عارضہ لاحق ہونے کی صورت میں انڈر وئیر پہننے کی وجہ سے اس پر صدقہ دینا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الهندیة: إذا لبس المحرم المخیط علی الوجه المعتاد یوما إلی اللیل فعلیه دم، وإن کان أقل من ذلك فصدقة کذا فی المحیط سواء لبسه ناسی أو عامدًا عالمًا أو جاهلًا مختارًا أو مکرها هکذا فی البحر الرائق.اھ (۱/ ۲۶۳)
وفی الرد: تحت (قوله ولو طاف للعمرة کله أو أکثره أو أقله ولو شوطا جنبا أو حائضا أو نفساء أو محدثا فعلیه شاة لا فرق فیه بین الکثیر والقلیل والجنب والمحدث لأنه لا مدخل فی طواف العمرة للبدنة ولا للصدقة. اھ (۲/ ۵۵۱) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37870کی تصدیق کریں
0     238
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات