میرا بڑا بھائی محفوظ اقبال ملازمت کے سلسلہ میں دبئی گیا تھا اور وہاں اس نے کچھ رقم قرض لی تھی، ضمانت کے طور پر اپنا پاسپورٹ رکھوادیا تھا، مگر کچھ عرصہ بعد وہ بیمار ہوگیا اور اسے آنکھ کی معذوری سے بچنے کیلئے جلد از جلد علاج اور وطن واپسی کی ضرورت پڑی، مگر یہ اس کیلئے مشکل تھا، اس کے پاس پیسے نہیں تھے اور پاسپورٹ بھی دستیاب نہیں تھا، میرے کزن شاہ زیب کمال نے یہ سنا تو اس نے پندرہ ہزار اماراتی درہم کا دبئی میں انتظام کرادیا، یہاں پر یہ بات علم میں لانا ضروری ہے کہ اس وقت قرضہ کی واپسی کی شرائط طے نہیں کی گئی تھیں کیونکہ بعض وجوہات کی بناء پر میرے بھائی اور کزن کے درمیان بول چال بند تھی، اب قرضہ لیے جانے کے بعد سے چوتھا سال شروع ہونے کو ہے اور میرا کزن میرے بھائی سے قرضہ کی ادائیگی اماراتی درہم میں کرنا چاہ رہا ہے جو قرضہ لیتے وقت تھے، اور کچھ ادائیگی اس نے روپیہ کی صورت میں کردی ہے، اب آپ سے درخواست ہے کہ شریعت کی روشنی میں ادائیگی کا طریقہ کار اور شرائط بیان فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا بھائی اگر اماراتی درہم کے بجائے پاکستانی روپیہ میں قرضہ ادا کرنا چاہیے تو باہمی اتفاق سے ایسا کرنا بھی درست ہے البتہ پاکستانی روپیہ میں ادائیگی کی صورت میں ادائیگی والے دن کی قیمت معتبر ہوگی، قرضہ لیتے وقت کی قیمت کا اعتبار کرنا درست نہیں۔
کما في سنن أبي داؤد: عن عبد الله بن عمر –رضی الله عنه- قال: «كنت أبيع الإبل بالبقيع، فأبيع بالدنانير وآخذ الدراهم، وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانير، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يريد أن يدخل بيت حفصة، فقلت: يا رسول الله، إني أبيع الإبل بالبقيع، فأبيع بالدنانير وآخذ الدراهم، وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانير، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا بأس أن تأخذها بسعر يومها، ما لم تتفرقا وبينكما شيء». (۳/۲۹۳)-
وفي بحوث فی قضایا: فقهیة معاصرة بعد إیراد هذا الحدیث: وجه الاستدلال بهذا الحدیث: أن النبي ﷺ أباح لابن عمر رضی الله عنهما اذا وقع البیع علی الدنانیر أن یأخذ بدلها الدراهم یقیمة الدنانیر یوم الاداء لا یوم ثبوتها في الذمة. (۱/۱۸۷) واللہ اعلم بالصواب
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0