تیس (30) سال پہلے میں زرعی ادویات کا کاروبار کرتا تھا، اس سلسلے میں ایک کمپنی سے ادویات ادھار پر لی اورآگے کاشتکاروں کو ادھا پردے دی، فصل آنے پر 85 فیصد رقم وصول ہوئی جو کمپنی کو ادا کردی باقی رقم بوجوہ ادا نہ کرسکا کمپنی والے رقم کا تقاضا کرے رہے ہیں، لیکن میں رقم نہ دے سکا ، اب اللہ کے کرم سے میں قرض ادا کرنے کے قابل ہوا ہوں، اور جب پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ کمپنی تو کافی عرصہ پہلے ختم ہوچکی تھیج، اور تلاش کے باوجود بھی ان کے کسی مالک کا پتہ نہیں چل سکا اب میرا سول یہ ہے کہ میں یہ قرض کیسے ادا کروں؟
سائل پر لازم ہے کہ مذکور کمپنی کے مالکان یا ان کے ورثاء کو تلاش کر کے اپنے قرض کی ادائیگی کرے، اگر تلاش بسیار کے باوجود مالکان اور ان کے ورثاء کا علم نہ ہوسکے اور ان کے ملنے سے مایوسی ہوجائے تو ان مالکان کی طرف سے اتنی رقم صدقہ کردے ، تو ان شاء اللہ سائل اخروی مؤاخذہ سے سبکدوش ہوجائیگا، اگر اس کے بعد بھی مالکان کا پتہ چلے ،ان کا مطالبہ بھی ہو تو ان کو دینا لازم ہوگا۔
کما فی الدرالمختار: (عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) الخ (4/283)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0