اگر بیوی یہ کہے کہ ”بھاڑ میں جائے آپ کی نعت “ شوہر کےنظر انداز کرنے اور مسلسل موبائل میں نعتیں سنتے رہنے کے بعد، کیا بیوی پر لازم ہے کہ وہ کلمہ دوبارہ پڑھے اور تجدیدِ نکاح کرے؟
سوال میں مذکور الفاظ اگر چہ ایسے نہیں جن کی وجہ سے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہو، البتہ ایسے الفاظ ادا کرنا خصوصاً شوہر کے ساتھ اس لہجے میں بات کرنا بے ادبی ہے، جس پر سائلہ کو شوہر سے معذرت کرنا اور آئندہ کیلئے اس طرح کے لہجے سےاجتناب کرنا چاہئے۔
كما في الدر المختار: والكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه - صلى الله عليه وسلم - في شيء مما جاء به من الدين ضرورة وألفاظه تعرف في الفتاوى، بل أفردت بالتآليف مع أنه لا يفتى بالكفر بشيء منها إلا فيما اتفق المشايخ عليه۔اھ (4/223)
وفي خلاصة الفتاوىٰ: اذا كان في المسئلة وجوه يوجب التكفير ووجه واحد يمتنع فعلى المفتى ان يميل الى هذا الوجه الجاهل اذا تكلم بكلمة الكفر ولم يدر أنها كفر قال بعضهم لا يكون كفرا وبعذر بالجهل وقال بعضهم يصير كافرا۔اھ (4/382)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1