والدین یا بیوی کو عمرہ کروانے سے پہلے خود حج کرنا ضروری ہے، اگر وہ رقم حج میں خرچ کی جانے والی رقم کے برابر ہو ،کسی کی چھوٹی بیٹیاں ہوں، تو پہلے ان کی شادی کے لئے جمع کرنا چاہئیے یا عمرہ کر سکتے ہیں ؟
اگر کسی شخص کے پاس ایامِ حج میں ضروریاتِ اصلیہ سے زائد اتنی رقم ہو کہ جس سے حج پر آنے جانے اورواپس آنے تک گھر والوں کے اخراجات پورے ہو سکتے ہوں، تو اس شخص کے ذمہ حج پر جانا لازم اور ضروری ہوتا ہے، ایسی صورت میں اس کے لئے اپنا فرض چھوڑ کر والدین یا بھائیوں کو عمرہ کرانا درست نہیں ، جبکہ اگر کسی کی بیٹیاں کم عمر ہوں، شادی کی عمر کو نہ پہنچی ہوں، اور وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنا چاہے، تو اس کے لئے ایسا کرنا بھی جائز بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، ورنہ بیٹوں کے نکاح کی ذمہ داری کو عمرہ پر مقدم رکھنا چاہئیے۔
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها (إلى قوله ) من أنه لو كان له مال، ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذا خرج أهل بلده قبل أن يتزوج، وكذا لو كان يحتاجه لشراء دار أو عبد فليتأمل، والله أعلم اھ (2/ 262)۔
وفيه أیضاً: (قوله ووجهه إلخ) أي وجه كون التأخير صغيرة أن الفورية واجبة لأنها ظنية لظنية دليلها وهو الاحتياط لأن في تأخيره تعريضا له للفوات، وهو غير قطعي فيكون التأخير مكروها تحريما لا حراما اھ (2/ 457)۔