محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
(۱): مذبح خانوں میں مشینوں کے ذریعہ ذبح شدہ مرغیوں کا استعمال حلال ہے کہ حرام ؟ وہ اس طرح کہ ایک شیخ اللہ اکبر کہہ کر بٹن دباتا ہے، یا تکبیر کی آواز بذریعہ ٹیپ سنا دی جاتی ہے، اور مرغیاں ایک ایک کرکے یا ایک بنڈل کی شکل میں بلیڈ کے نیچے آجاتی ہیں ۔
(۲): درآمد شده مرغی کا گوشت جو منجمد پیکنگ (ڈبوں کے اندر) دستیاب ہیں استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں؟
1:مشینی ذبیحہ کا جو طریقہ سوال میں درج ہے ،اس میں ذبح سے پہلے اگر کوئی شخص بسم اللہ پڑھ کر خود ذبح کرے ،یا مشین کا بٹن دبائے اس سے فقط پہلی مرغی شرعاً حلال کہلائی گی، بقیہ نہیں ، جبکہ بذریعہ ٹیپ ریکار ڈر ذبح ہونے والی کوئی مرغی بھی شرعاً حلال نہیں کہلائے گی، ان سے احتراز لازم ہے۔
(۲) :اس قسم کا گوشت ( ڈبوں وغیرہ کے اندر پیک شده) اگر ایسی کمپنی کا پیک کردہ ہو جو اسلامی طریقہ کار پر ذبح کا اہتمام کرتی ہو ،تو اس کا لے کر کھانا جائز ہے ،ورنہ اس سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى : {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ } [الأنعام: 121]
و في البحر الرائق: و في الحاوي جمع العصافير فذبح واحدة وسمى وذبح أخرى على أثره بتلك التسمية لا تؤكل ولو أمر السكين عليهم بتسمية واحدة جاز اھ (8/ 193)
و في الدر المختار: (لا) تجب (بسماعه من الصدى والطير) (2/ 108)
و في بدائع الصنائع: فصل وأما بيان من تجب عليه فكل من كان أهلا لوجوب الصلاة عليه (إلی قوله) بخلاف السماع من الببغاء والصدى فإن ذلك ليس بتلاوة اھ (1/ 186)
و في البحر الرائق: و في جامع الجوامع من اشترى لحما وعلم أنه ذبيحة مجوسي وأراد الرد فقال البائع الذابح مسلم لا يرد ويحل أكله مع الكراهية اھ (8/ 193)
و في الدر المختار: (و) يقبل قول الفاسق والكافر والعبد في (المعاملات) لكثرة وقوعها اھ (6/ 345) -
پروندوں کی خوراک کے کیڑے (Meat Warm)کوپالنے اور کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ حلال و حرام جانور 0