السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک شرعی مسئلے کے لیے رہنمائی چاہتا ہوں:ایک جرگہ کا فیصلہ گواہی، قرآنِ مجید پر حلف اور شواہد کی بنیاد پر ایک شخص کے حق میں ہوا۔
یہ بات خاص طور پر عرض ہے کہ قرآن پر حلف اٹھانے کی رائے خود دوسرے فریق (فرید) نے دی تھی۔
بعد میں وہی فریق اس فیصلے کو قبول کر چکا تھا۔
اب دو سال بعد، بغیر کسی نئی دلیل، گواہی یا ثبوت کے، وہ اس فیصلے سے انکار کر رہا ہے۔
میرا سوال یہ ہےکہ :کیا شریعت میں ایسا انکار جائز ہے؟اور اس فیصلے کی شرعی حیثیت اب کیا ہوگی؟
براہِ کرم دارالافتاء کی روشنی میں جواب عطا فرمائیں۔
سائل نے سوال کے ساتھ اس جرگہ میں ہونے والے فیصلہ کی نوعیت اور تفصیل بیان نہیں کی اس لئے اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جاسکتی ،البتہ اگرا فریقین نے باہمی رضامندی سے اہل جرگہ کو فیصلہ کرنے کےلئے ثالث مقرر کرکے انہیں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہو اور جرگہ نے فیصلہ کرتے وقت شرعی ضابطوں کا لحاظ رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہوتو فیصلہ شرعا بھی معتبر ہوگا ، لہذا اب دو سالوں کے بعد کسی فریق کےلئے بھی اس فیصلہ پر معترض ہوکر انکار کرنا شرعا جائزنہیں ۔
کما فی تبیین الحقائق : قال رحمه الله (حكما رجلا ليحكم بينهما فحكم ببينة أو إقرار أو نكول في غير حد وقود ودية على العاقلة صح لو صلح المحكم قاضيا( الی قولہ) قال رحمه الله (فإن حكم لزمهما) لأن حكمه صدر عن ولاية شرعية عليهما كالقاضي إذا حكم لزم، ثم بالعزل لا يبطل حكمه الخ ( کتاب القضاء، باب التحکیم،ج4، ص 117-118، ط: دار الکتب العلمیۃ )
وفی الھندیۃ: ولكل واحد من المحكمين أن يرجع ما لم يحكم عليهما، فإذا حكم لزمهما، كذا في الهداية الخ( کتاب ادب القاضی، الباب الرابع والعشرون فی التحکیم، ج3، ص 397،ط: ماجدیۃ)
پروندوں کی خوراک کے کیڑے (Meat Warm)کوپالنے اور کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ حلال و حرام جانور 0