احکام حج

عورت کے لئے پھوپھی زاد بھائی کے ساتھ حج پر جانے کا حکم

فتوی نمبر :
38947
| تاریخ :
2019-12-19
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

عورت کے لئے پھوپھی زاد بھائی کے ساتھ حج پر جانے کا حکم

ایک اسلامی بہن حج پر جانا چاہتی ہے، لیکن شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، اور اس کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، بھائی بہن بھی نہیں ہیں، اور نہ ہی بہن کا کوئی بیٹا ہے، یعنی کوئی محرم نہیں ہے، تو اس صورت میں وہ اسلامی بہن کیا کرے گی ؟کیسے حج کرے گی ؟ ان کی پھو پھی کے بیٹے ہیں ، عمر دراز ہیں، نیک ، نمازی ہیں ، کیا ان کے ساتھ جاسکتی ہے حج پر ؟ اس کی بہت زیادہ دلی خواہش ہے حج پر جانے کی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایسی خاتون جس کے ساتھ سفر حج پر جانے کے لیے کوئی محرم میسر نہ ہو ،تو اس عورت پر حج فرض نہیں، ایسی عورت کا بغیر محرم کے حج کے سفر کے لئے نکلنا جائز بھی نہیں، اور اگر آخر عمر تک محرم نہ ملے، تو وصیت کر جائے کہ میری طرف سے حج بدل کر ادیا جائے، تاہم اگر ایسی عورت بغیر محرم کے حج کے لیے چلی جائے، تو اگر چہ حج ادا ہو جائے گا، مگر بغیر محرم سفر کرنے کا گناہ لازم ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة: (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع اھ (1/ 219)۔
وفی بدائع الصنائع: الذي يخص النساء فشرطان: أحدهما أن يكون معها زوجها أو محرم لها فإن لم يوجد أحدهما لا يجب عليها الحجوهذا عندنا(إلی قوله)و لنا ما روی عن ابن عباس - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: ألا «لا تحجن امرأة إلا ومعها محرم» ، وعن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا تسافر امرأة ثلاثة أيام إلا ومعها محرم أو زوج» ولأنها إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها اھ (2/ 123)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38947کی تصدیق کریں
0     743
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات