احکام حج

بیماروالدہ کو چھوڑ کر میاں بیوی کا حج پر جانا

فتوی نمبر :
39087
| تاریخ :
2020-01-15
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

بیماروالدہ کو چھوڑ کر میاں بیوی کا حج پر جانا

میں نے ، والدہ اور بیوی نے 2016 میں عمرہ کیا،اب میرااور بیوی کا حج کا ارادہ ہے ،جب کہ اب والدہ کو ہائی بلڈ پریشراور شوگر ہے ، ان کی عمر تقریبا 78 سال ہے اور ان سے مناسب چلا بھی نہیں جاتا، سانس بھی پھولتا ہے ، اب ہمارے لیےان کےحج متعلق کیا حکم ہے ؟ والدہ کو چھوڑ کر ہم حج کے لیےجاسکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے یہ نہیں لکھا کہ اس کی والدہ پر حج فرض ہو چکا ہے یاوہ انکو اپنی طرف سے حج کرانا چاہتا ہے، تاہم اگر سائل کی والدہ پر حج فرض ہو چکا ہو یعنی ان کے پاس اپنا ذاتی پیسہ اتنا ہو کہ سفرِ حج میں آنے جانے کے لیے کافی ہو تو ایسی صورت میں انکو خود حج کرنا یا معذوری کی صورت میں حج بدل کی وصیت کرنا لازم ہے،لیکن اگر سائل کی والدہ پر صاحب استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے حج فرض نہ ہو، سائل نفل حج کے لیے لے جانا چاہتا ہو ،مگر بیماری کی وجہ سے ان کا جانا مشکل ہو تو ان کو سمجھا کرفقط بیوی کو حج پرلے جانا بھی درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح المسلم : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللهِ فی الْحَجِّ، وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَحُجِّي عَنْهُ» اھ (2/974)۔
و فی البحر الرائق : وكذا الأم فی السير الكبير إذا لم يخف عليه الضعف فلا بأس به وكذا إن كرهت خروجه زوجته ومن عليه نفقته وإن لم يكن عليه نفقته فلا بأس به مطلقا اھ (2/309)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39087کی تصدیق کریں
0     591
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات