آجکل کے دور میں اگر کوئی خاتون اپنے اکیلے کے حج کے اخراجات کی استطاعت رکھتی ہو اور اپنے ساتھ کسی محرم کو لےجانے کی استطاعت نہ ہو اس کے پاس، اور نہ ہی اس کا محرم صاحب استطاعت ہو تو کیا اس پر اکیلے حج کےلیے جانا درست ہوگا یا وہا ں اپنے محرم کےمستطیع ہونے تک انتظار کرے گی؟
عورت کے پاس اگر محرم کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے بغیر محرم سفرِ حج پر جانا درست نہیں، بلکہ وہ انتظار کرے ، جب محرم کا بندوبست ہوجائے تب حج کے لیے چلی جائے، تاہم اگر آخر عمر تک محرم کاانتظام نہ ہو سکے تو حج بدل کی وصیت کرنا اس پر لازم ہے۔
كما فی الهندية : ومنها المحرم للمرأة شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا فی المحيط الى (قوله) وتجب عليها النفقة والراحلة فی مالها للمحرم ليحج بها، وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام (إلى قوله) ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فیما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا فی النهاية اھ(1/219)۔