میں اپنے شوہر کے ساتھ عمرہ پر جارہی ہوں اور میری امی بھی جانا چاہتی ہیں جن کی طبیعت بھی خراب رہتی ہے بڑھاپے کی وجہ سے، میرے بچے چھوٹے ہیں اور میں ان کو سنبھال نہیں سکتی، تو میں غیر شادی شدہ بہن کو لےجانا چاہتی ہوں جو ڈاکٹر بھی ہے، اور امی کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے، کیا میں اپنی بہن کو لے جا سکتی ہوں ؟ کیونکہ محرم کا مسئلہ ہے، کیونکہ میں اپنے خاوند کے ساتھ جارہی ہوں اور ان کےنکاح میں ہوں، تو کیا ایسی حالت میں میری بہن کو لےجانے کی اجازت ہے؟
بہنوئی چونکہ شرعاً غیر محرم ہوتا ہے، اس لیے سائلہ کی بہن کا اپنے بہنوئی کے ساتھ عمرہ پر جانا درست نہیں، اس سے احتراز لازہے، تاہم اگر وہ بغیر محرم کے عمرہ پر جائی گی، تو عمرہ تو ادا ہو جائےگا، اور والدہ کی خدمت بھی میسر ہو جائے گی ،مگر بغیرمحرم کے سفرکرنے کا گناہ لازم آئے گا۔
كما في صحيح البخاري : عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يخلون رجل بامرأة. ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم، فقام رجل فقال با رسول الله، اكتتبت في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرائي حاجة، قال: «أذهب فحج مع امرأتك اھ (1/ 421)۔
وفي المرقاة: قال ابن الهمام في الصحيحين لا تسافر امرأة ثلاثا إلا ومعها ذو محرم .. وفي لفظ لهما فوق ثلاث، وفي لفظ للبخاري ثلاثة أيام. وفي رواية البزار لا تحج امرأة إلا ومعيادو محرم، وفي رواية الدارقطني (لا تحجن امرأة إلا ومعها ذو محرم) قال ابن الملك فيه دليل على عدم لزوم الحج عليها إذ لم يكن معها محرم، وبهذا قال أبو حنيفة وأحمد، وقال مالك . رحمه الله تعالى يلزمها إذا كان معها جماعة النساء، وقال الشافعي رحمه الله يلزمها إذا كان معها امرأة ثقة اهـ وقال الشمني مذهب مالك إذا وجدت المرأة صحبة مأمونة لزمها الحج لأنه سفر مفروض كالهجرة، ومذهب الشافعي إذا وجدت نسوة ثقات فعليها أن تحج معين ثم قال . واعلم أنه يشترط في المرأة أیضاً أن لا تكون معتدة، والمراد بالمحرم من حرم عليه نكاحها على التأبيد بسبب قرابة أو رضاع أو مصاهرة بشرط أن يكون مكلفا ليس بمجوسي ولا غير مأمون) اھ (5/ 386)۔