میں نے نماز میں ”الم اعھد الیكم یبني آدم ان لاتعبدو الشيطن انہ لکم عدو مبین“ کی قرات میں " انہ" کے بجائے " انی" پڑھا، تو کیا نماز درست ہو گی؟ میں نے اس آیت سے پہلے چار پانچ آیات درست پڑھیں ۔
مذکور صورت میں سائل کا "إنه لكم عدو مبين " کی جگہ " إني لكم عدو مبین “ پڑھنے سے چونکہ معنی میں بہت زیادہ تغییر لازم آئی ہے، اس لئے اس طرح پڑھنے کی وجہ سے نماز فاسد ہوگئی ہے، اگر چہ اس سے پہلے اتنی قرأت کی ہو جو صحت نماز کے لئے کافی ہو۔
كما في الدر المختار: ولو زاد كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا، أو قدمه أو بدله بآخر( إلى قوله )لم تفسد ما لم يتغير المعنى اهـ
وفي حاشية ابن عابدين: قوله ولو زاد كلمة اعلم أن الكلمة الزائدة إما أن تكون في القرآن أو لا، وعلى كل إما أن تغير أو لا، فإن غيرت أفسدت مطلقا اھ ـ (۱/۶۳۰)۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0