وضو

خروجِ مذی سے وضو کا حکم

فتوی نمبر :
43329
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

خروجِ مذی سے وضو کا حکم

السلام علیکم ! کن کن صورتوں میں غسل کرنا واجب ہے ؟ میاں بیوی کے اعضاءِ مخصوصہ رگڑ کھائیں ، جبکہ دخول نہ ہو ، رگڑ (Rubbing) کے دوران میاں بیوی میں سے کسی ایک کے اعضاء مخصوصہ میں سے پانی نکل آئے ، جبکہ دخول نہ ہو ؟‬‎‬‬

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شوہر کا عضوِ خاص اگر بیوی کی شرمگاہ میں داخل نہ ہو ، فقط میاں بیوی کے اعضاءِ مخصوصہ کا با ہم رگڑنے کیوجہ سے دونوں یا کسی ایک کے عضوِ‬‎ ‎‫خاص سے پانی نکل آئے ، تو اگر وہ شہوت کے ساتھ نہ ہو تو وہ مذی کا پانی کہلاتا ہے ، جس سے غسل‬‎‬‬‬‬ نہیں ، بلکہ فقط وضوء لازم ہوتا ہے، جبکہ بقیہ موجباتِ غسل کی تفصیل نماز کی کتابوں میں دیکھ لی جائے۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

کما‬‎ ‎‫فی صحيح مسلم : عن أبی سعید الخدری ، عن النبی ﷺ أنہ قال: انما الماء من الماء (1/269)۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬
‎‫و فی سنن الترمذي : عن عائشة قالت : إذا جاوز الختان الختان‬‎‬‬ وجب الغسل ، فعلته أنا و رسول الله صلى الله عليه و سلم‬‎ ‎‫فاغتسلنا (1/169)۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43329کی تصدیق کریں
0     927
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات