السلام علیکم مفتی صاحب! موجودہ دور میں حکومت پاکستان کی طرف سے اپنا گھر بنانے کے لیے بینک سے جو قرضے دے رہے ہیں کیا وہ قرضہ لیا جاسکتا ہے، یا وہ سود کے زمرے میں آتا ہے ؟ جزاک اللہ ؟
حکومت پاکستان کی طرف سے اپنا گھر بنانے کے لیے لوگوں کو جو قرضہ فراہم کیا جاتا ہے ، وہ سودی قرضہ ہے ، اور سودی تمام قرضے قرآن و سنت کی واضح نصوص کی رو سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہذا اس طرح کے قرض لینے کے بجائے کسی فرد یا ادارے سے بلا سود قرضہ لے ، یا اس کے علاوہ مستند مفتیان کرام کی زیر نگرانی اپنے معاملات سر انجام دینے والے کسی اسلامی بینک سے اپنے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کرے ۔
قال اللہ تعالىٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (آل عمران: 130) ۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166) ۔والله اعلم بالصواب!
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0