سوال یہ ہے کہ کیا کسی عالم نے ”مولانا حاجی عبد الوہاب صاحب“ کے حوالے سے بتایا کہ وہ یہ درود شریف پڑھنے کی فضیلت بتلاتے ہیں ”صلی اللہ سبحانه وبحمدہ علی محمد عبده ورسوله النبی الامی وآله وبارک وسلم کما ھو“کہ یہ وظیفہ نماز کے بعد جو”سات مرتبہ“ پڑھے تو اللہ اس کو ہر چیز پر غالب رکھے گا۔
دوسرا درود شریف یہ ہے کہ”صلی اللہ علی سید نا محمد واله وسلم“ جو روزانہ ”500“پانچ سو مرتبہ پڑھے
تو اس کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان مذکورہ بالا درود شریف کا کوئی ثبوت ہے یانہیں؟ اور ان دونوں درود شریف کا پڑھنا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ درود شریف کے الفاظ کا کسی حدیث سے ثابت ہونا شرعاً کوئی لازم نہیں، بلکہ اس کے الفاظ اور معنی کے اعتبار سےدرست ہونا کافی ہے ، اگر چہ افضل یہ ہے کہ درود شریف وہ زیادہ مؤثر ہیں جو احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوں، اس لئے سوال میں مذکور درود شریف کے بعینہ یہی الفاظ اور اس کی کسی مذکور فضیلت اگرچہ حدیث کی کسی معتبر کتاب میں تو نہیں ملی، مگر الفاظ اور معنی کے اعتبار سے دونوں درست ہیں، اور”حاجی عبد الوہاب صاحب“ کے حوالے سے مذکور دونوں درود شریف کی جو فضیلت بیان ہوئی ہے،ممکن ہے وہ موصوف کے تجربہ کا نتیجہ ہو ، اس لئے مذکور دونوں درود شریف کے پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔