احکام حج

جدہ میں مقیم شخص کا حجِ قران کرنا

فتوی نمبر :
44185
| تاریخ :
2021-03-02
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

جدہ میں مقیم شخص کا حجِ قران کرنا

میرا نام نادر حسین ہے ،میں جدہ میں رہتا ہو ں اور میں نے حجِ قران کیا، میں نے کہیں دیکھا کہ جدہ میں رہنے والے لوگ حجِ قران نہیں ادا کر سکتے ہیں۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میں نے سعودی حکومت کو قربانی کی رقم ادا کی،لیکن ان کی طرف سے بھی قربانی کے بارے میں کوئی پیغام نہیں ملا، میں نے کچھ گھنٹوں تک انتظار کیا اور پھر اپنے بالوں کو کاٹا اور احرام اتار دیا،کیا مجھ پر دم واجب تو نہیں ؟ کیا میراحج ہو گیا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو شخص مکہ مکرمہ کا رہائشی ہو یا میقات کے اندر مقیم ہو ، اس شخص کے لیے حج قران کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کوئی شخص حج قران کر لیتا ہے، تو ارکان ادا ہو جاتے ہیں ، لیکن اس کے ذمہ "دم جبر " اور اپنے اس عمل پر توبہ واستغفار لازم ہے، لہذا سائل کا حج تو ادا ہو چکا ہے ، البتہ سائل کو چاہیئے کہ اپنے اس عمل پر توبہ واستغفار کرے، جبکہ اس کے بعد سائل نے قربانی کے لیے جو رقم ادا کی چونکہ وہ دم ِجبر ہے جس کا کوئی وقت متعین نہیں،لہذا سائل نے اگر چہ اطلاع ملنے سے قبل حلق کیا ہو تب بھی سائل کے ذمہ مزید کوئی دم لازم نہ ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهداية : وإذا رمى الجمرة يوم النحر ذبح شاة أو بقرة أو بدية أو سبع فهذا دم القرآن لأنه في معنى المتعة والهدي منصوص عليه فيها والهدي من الإبل والبقر والغنم على ما تذكره في بابه إن شاء الله تعالى وأراد بالبدنة ههنا البعير وإن كان اسم البدنة يقع عليه وعلى البقرة على ما ذكرنا وكما يجوز سبعالبعير يجوز سبع البقرة (259/1)۔
و فیھا أیضاً : " قال أبو حنيفة رحمه الله: إذا أحرم المكي بعمرة وطاف لها شوطا ثم أحرم بالحج فإنه يرفض الحج وعليه لرفضه دم وعليه حجة وعمرة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله رفض العمرة أحب إلينا وقضاؤها وعليه دم " لأنه لا بد من رفض أحدهما لأن الجمع بينهما في حق المكي غير مشروع والعمرة أولى بالرفض لأنها أدنى حالا وأقل أعمالا وأيسرقضاء لكونها غير مؤقتة وكذا إذا أحرم بالعمرة ثم بالحج ولم يأت بشيء من أفعال العمرة لما قلنا.فإن طاف للعمرة أربعة أشواط ثم أحرم بالحج رفض الحج بلا خلاف لأن للأكثر حكم الكل فتعذر رفضها كما إذا فرغ منها ولا كذلك إذا طاف للعمرة أقل من ذلك عند أبي حنيفة رحمه الله وله أن إحرام العمرة قد تأكد بأداء شيء من أعمالها وإحرام الحج لم يتأكد ورفض غير المتأكد أيسر ولأن في رفض العمرة والحالة هذه إبطال العمل وفي رفض الحج امتناع عنه وعليه دم بالرفض أيهما رفضه لأنه تحلل قبل أوانه لتعذر المضي فيه فكان في معنى المحصر إلا أن في رفض العمرة قضاءها لا غير وفي رفض الحج قضاؤه وعمرة لأنه في معنى فائت الحج " وإن مضى عليهما أجزأه " لأنه أدى أفعالهما كما التزمهما غير أنه منهي عنهما والنهي لا يمنع تحقق الفعل على ما عرف من أصلنا " وعليه دم لجمعه بينهما " لأنه تمكن النقصان في عمله لارتكابه المنهي عنه وهذا في حق المكي دم جبر وفي حق الأفاقي دم شكر اھ (1/174)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 44185کی تصدیق کریں
0     557
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات