السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مجھے امید ہے کہ میرا ای میل آپ حضرات کو پہنچا ہو گا، میں اپنے والدین اور بیوی کے ساتھ حج کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میرے والدین بوڑھے ہو چکے ہیں، تو میرے ذریعے سے ان کو اس سفرِ حج میں سہولت مہیا ہو گی ، لیکن میرےوالدین کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ اس سے سفرِ حج کے اخراجات نمٹائیں، جبکہ میرے پاس پہلے سے قرضہ کے پیسے موجود ہیں ، میں نے ایک موٹر کار خریدنے کی عرض سے بینک سے قرضہ لیا، لیکن والدین کی چاہت تھی کہ اس رقم سے ہم حج پے چلے جائیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ صورت ِحال کے پیش نظر اس قرضہ کی رقم کو میں حج کی ادائیگی کیلئے استعمال کر سکتا ہوں کہ نہیں؟ اور کیا اس مال سے ادا کیے جانے والا حج مقبول ہو گا کہ نہیں؟ کیونکہ میری بیوی کے پاس قرضہ کے پیسے نہیں ہے ، بلکہ میں نے ہی اس کے لئے اس سودی رقم سے ٹکٹ کا بندوبست کروایا ہے ؟ جزاکم اللہ !
سائل نے بینک سے جو سودی قرضہ لیا ہے ، اس کی وجہ سے اگر چہ سائل سخت گنہگار ہو چکا ہے ، جس پر اسے بصدقِ دل تو بہ واستغفار اور آئندہ کیلئے سودی معاملات سے مکمل اجتناب لازم ہے، البتہ اگر مذکور رقم سے سائل اپنی بیوی اور والدین کو حج پر لے جانے کا انتظام کرلے ، تو ایسی صورت میں اگرچہ ان کا حج تو ادا ہو جائے گا، مگر سائل کیلئے مذکور رقم سے والدین اور بیوی کو حج پر لے جانے کے بجائے جلد از جلد اس قرض کی واپسی کا انتظام کرنا چاہیئے۔
كما في فقه البيوع: أما من يستقرض بالربوا فانه بالرغم من اقترافه اثماً كبيراً فى عنقه، يملك ما استقرضه وھو مضمون عليه و ذالك لأن القرض مما لا يبطل بالشرط الفاسد وإنما يبطل الشرط فما يشتريه مما استقرضه ليس حراماً، وعلى ھذا لو اھدى إلى رجل شيئاً، فانه يحل له الأخذ، وكذا يجوز البيع إليه والشراء منه . اھ (۲/1060)-