السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
معزز مفتیانِ کرام !مندرجہ ذیل مسئلے کا حکم مطلوب ہے۔
زید نے یکم جنوری 2020 کو دس لاکھ پاکستانی روپے ابو بکر سے پانچ سال کے لئے ادھار لیے۔ یکم جنوری کو ایک گرام سونے کی قیمت ایک لاکھ ہے [جوکہ 10 لاکھ پاسکتانی روپے کے بالمقابل ، یکم جنوری 2020 کو] ابو بکر نے 10 لاکھ پاکستانی روپے دیتے ہوے یہ شرط عائد کی کہ پانچ سال کے بعد جو سونے کے 10 گرام کی قیمت جو ہوگی اس کے بالمقابل پاکستانی روپے میں قرضہ واپس دینا ہوگا پانچ سال بعد [ قرض کی ادئیگی لازمی پاکستانی روپے میں ہے ،مگر سونے کے پانچ سال کے بعد کے نرخ کے حساب سے] اس طرح کے قرض کے لین دین کا حکم مطلوب ہے۔
جزاکم اللہ خیراً
زید کا ابوبکر کو دس لاکھ پاکستانی روپے بطورِ قرض دیکر واپسی کیلئے سونے کی قیمت کو معیار بنا نے کی شرط لگانا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر زید دس لاکھ روپے قرض دینے کے بجائے ، دس لاکھ روپے کا سونا خرید کر ابوبکر کو قرض کے طور پر دیدے تو ایسی صورت میں ابوبکر کے ذمہ بطورِ قرض لیے گئے سونے کی واپسی یا اس وقت سونے کی جو قیمت ہوگی، وہ زید کو دینا لازم ہوگا۔
كما قال الله تعالیٰ: ﴿يٰا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوه لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ عَنِ الصَّلاةِ فَهَلْ أَنتُمْ مُنْتَهُونَ (المائدة 90/91)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0