السلام علیکم :
امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ، میرا ایک سوال ہے ، اس کے بارے میں رہنمائی فرمادیں، میں سعودیہ میں جاب کرتا ہوں، اور پانچ مہینے پہلے میں نے پاکستان میں ایک فلیٹ لیا، جس کے لئے مجھے سات لاکھ کی ضرورت ہوئی، تو میں نے اپنے ایک کولیگ سے قرضہ لیا، اس کولیگ نے یہاں پر بینک سے لون لیا ہوا تھا، تو اس نے بتایا کہ میرے لون سے پیسے لے لو ،اور جو بینک کی قسطیں بنتی ہیں، اس حساب سے واپس کر دینا، میں نے پندرہ ہزار سعودی ریال لیا تھا، اور مجھے واپس سولہ ہزار پانچ سو سعودی ریال کرنے ہیں، کیا یہ میرے لئے صحیح ہے ؟ یا مجھے کچھ کفارہ ادا کرنا ہو گا ؟
سائل کا اپنے دوست سے پندرہ ہزار ریال بطور ِقرض لیکر ایک ہزار پانچ سو ریال کے اضافہ کے ساتھ اسے رقم لوٹانا صریح سودی معاملہ ہے، جس کی وجہ سے سائل اور اس کا دوست گناہ گار ہوئے ہیں، لہذا دونوں کو اپنے مذکور عمل کی وجہ سے توبہ واستغفار اورآئندہ کیلیے اس عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
كما في التنزيل العزيز: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورة البقرة: ۲۷۵) -
وفي التنزيل العزيز: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (۲۷۸) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورة البقرة: ٢۷٩)-
وفي مشكوة المصابیح : عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (ج ۱ ص ۲۴۴)-
وفی الدر المختار: لما تقرر أن الدیون تقضی بأمثالھا اھ (۳/ ۶۰۵)-
وفی الشامیة: (قوله کل قرض جر نفعا حرام) اھ (۵/ ۱۶۶) -
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0