ایک امام قرات میں غلطی کرتاہے، سورہ بقرہ کی ا س آیت میں :’’ومن یرغب عن ملة ابراھیم الا من سفه نفسه ولقد اصطفینٰه فی الدنیا وانه فی الاخرة لمن الصّالحین‘‘ لمن الصالحین کی جگہ لمن الخاسرین پڑھ دیتاہے، کیا نماز ہوجائے گی؟ سا تھ میں امام ابو یوسفؒ کا مذہب بھی بتائیں ا و ر فتویٰ کس کے قول پر ہے؟
’’صالحین‘‘ کی جگہ ’’خاسرین‘‘ پڑھنے سے معنی بدل گئی، ا س لئے نماز فاسد ہوگئی، البتہ جب قرآن کے کلمہ یا حرف کو بدل کر پڑھا جائے ،تو ا س کے فساد وعدم فساد میں طرفین کے نزدیک معنیٰ کی تبدیلی کا اعتبار ہے کہ ا گر اتنی غلطی کی کہ معنی بدل گیا تو نماز فاسد ہوجائے گی ا و ر ابو یوسفؒ کے نزیک ا گر ا س کی مثل قرآن میں موجود ہے تو نمازفاسد نہیں ہوگی، اگرچہ معنی بدل جائے ا و ر ا گر ا س کی مثل قرآن میں نہیں تو نماز فاسد ہوجائے گی ا گر چہ معنی تبدیل نہ ہو، فتویٰ طرفین کے مذہب پر ہے ا و ر امام ابو یوسفؒ کا بھی صحیح مذہب یہی ہے ۔
جبکہ ’’فی الدنیا‘‘ پر ا گر وقف بھی کرلیا ہو تو ا س صورت میں بالاتفاق نماز درست ادا ہوچکی،اعادہ کی ضرورت نہیں۔
فی الخانیة: وان غیر المعنی بان قرأ ’’ان الابرار لفی جحیم، وان الفجار لفی نعیم‘‘ لو قرأ ’’ان الذین اٰمنو وعملو الصالحات، اولٰٓئِك هم شر البریة‘‘.... تفسد صلاته لانه اخبر بخلاف ما اخبر اللہ تعالٰی به وقال بعضهم: لا تفسد صلاته لعموم البلوی، والاول اصح (۱/ ۱۵۳)
وفی الشامیة: (قوله او بدله بآخر) هذا ان یکون عجزًا کالالثغ وقدمنا حکمه فی باب الإمامة وإما ان یکون خطأ، وحینئذٍ فإذا لم یغیر المعنی، فان کان مثله إن المسلمون لا تفسد، وإلا نحو قیامین بالقسط، وکمثال الشارح لا تفسد عندهما وتفسد عند ابی یوسف، وإن غیر فسدت عندهما، وعند ابی یوسف إن لم یکن مثله فی القرآن، فلو قرأ أصحاب الشعیر بالشین المعجمة فسدت اتفاقًا وتمامه فی الفتح.. واللہ اعلم بالصواب!
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0