میں نے جلدی میں اپنی بیوی کے سامنے کسی اور مسلمان کو کہہ دیا کہ یار یہ مسلمان ہی نہیں ہے اور فوراً کہتے ہی استغفار پڑھی اور کلمہ بھی پڑھا،کیا اس سے میرا نکاح ٹوٹ گیا؟ کیا میں غیر مسلم ہوگیا تھا؟
سائل نے اگر مذکور شخص کے کسی عمل اور گناہ وغیرہ کی وجہ سے اس کو "مسلمان ہی نہیں "کہا ہو،سائل کو اسکی کفر کا اعتقاد نہ ہو تواس سے سائل کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی ان الفاظ کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہوا ہے،البتہ سائل کو چاہیے کہ اپنے ان الفاظ پر بصدقِ دل توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ کیلئے ایسے الفاظ سے مکمل اجتناب کرے۔
کمافی رد المحتار:تحت قوله(قوله بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلما لما يذكره بعد (قوله إن اعتقد المسلم كافرا نعم) أي يكفر إن اعتقده كافرا لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولا يعتقده كفرا لا يكفر
وفی الفتاوی التاتارخانیة: الجاہل اذا تکلم بکفر ولم یدر أنه کفر لایکون کفراً ویعذر بالجھل وفی الینابیع: لایکون الکفر کفراً حتیٰ یعقد علیٰ القلب اھ (5/458)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1