السلام علیکم!
میرا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سےہے اور فیملی بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم ہے , میں خود اسلام آبادمیں ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا ہوں اور ساتھ اور شہروں میں بھی آنا جانا رہتاہے، لیکن زیادہ سے زیادہ میں 12دن تک گھر سے باہر ہوتا ہوں، یعنی کہ ہر ہفتے گھر آتا ہوں، نہیں توایک ہفتہ چھوڑ کردوسرے ہفتے ضرورآتا ہوں اس صورت میں جب گھرسے باہر ہوتا ہوں تو میں پوری نماز ادا کروں گا یا قصر نماز ادا کروں گا؟
سائل نے اگراب تک اپنی جائےِ ملازمت (اسلام آباد) میں ایک بار بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو تو وہ اسلام آبادمیں مسافر شمارہوگا اوراس پراپنی انفرادی نمازوں میں قصر کرنالازم ہے، اسی طرح دوسرے شہروں میں جانے کے بعد اگر سائل وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کرے تو وہاں سائل کے ذمہ اپنی انفرادی نمازوں میں قصر کرنا ہوگا۔
كما في المحيط البرهاني: قال أصحابنا رحمهم الله فرض المسافر في كل صلاة رباعية ركعتان۔ (212)۔
وفي البدائع : ان فرض المسافر من ذوات الأربع ركعتان لا غير . اهـ ( ج 1 ص 463)۔
وفي الدر: او ينوى اقامة نصف شهر ( اى حقيقة او حکما اه ( ج 2 ص 728)۔
وفيه ايضا: اما اقتداء المسافر بالمقيم فيصح في الوقت ويتم اه ( ج 2 ص 736)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4