میں ایک فوجی ادارےمیں پڑھتاہوں، جو "رسال پور" کے پی کے میں واقع ہے اور میں وہی رہتا ہوں اور میراگھر راولپنڈی میں ہے دونوں کے درمیان 150 کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے ، میں 20 یا 25 دن کے بعد 2 دن کیلیے گھر جاتا ہوں تو کیا میں گھر میں قیام کے دوران نماز قصر پڑھ سکتا ہوں؟ جزاک اللہ !
سائل پر اپنے شہر (راولپنڈی) میں داخل ہونے کے بعد (خواہ ایک دن کیلیے ہی آنا کیوں نہ ہو) پوری نماز پڑھنا لازم ہے ، قصر کرنا جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
كما في المبسوط للسرخسي: فالحاصل أن الأوطان ثلاثة. وطن قرار ويسمى الوطن الأصلي وهو أنه إذا نشأ ببلدة أو تأهل بها توطن بها. ووطن مستعار وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع خمسة عشر يوما وهو بعيد عن وطنه الأصلي ووطن سكنى وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع أقل من خمسة عشر يوما أو خمسة عشر يوما وهو قريب من وطنه الأصلي، ثم الوطن الأصلي لا ينقضه إلا وطن أصلي مثله، والوطن المستعار ينقضه الوطن الأصلي ووطن مستعار مثله والسفر لا ينقضه وطن السكنى لأنه دونه، ووطن السكنى ينقضه كل شيء إلا الخروج منه لا على نية السفر اھ (1 /252)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4