کیا بیوی شوہر کی مرضی کے بغیر حج یا عمرہ کرسکتی ہے؟ دین وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں
واضح ہوکہ عورت پر جب حج فرض ہوجائے تو وہ کسی بھی محرم کے ساتھ حج پر جاسکتی ہے،شوہر اس میں شرعاً رکاوٹ نہیں ڈال سکتا،بلکہ اس کی وجہ سے گناہ گار ہوگا،اس لئے اس سے روکنا شرعاً جائز نہیں،جبکہ عمرہ کرنا چونکہ مستحب ومسنون عمل ہے،اس لئے بلاعذر اس سے منع کرنا مناسب نہیں، مگر بلا اذن عورت کا سفرِِ عمرہ کے لئے نکلنا مکروہ ہے،اس لئے عورت کو چاہیئے کہ شوہر سے اجازت لینے کے بعد ہی اس اہم عبادت کی ادائیگی کرنے جائے،شوہر کو ناراض کرکے جانا درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الھندیة: وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام، وإن لم يأذن لها زوجها، وفي النافلة لا تخرج بغير إذن الزوج اھ(1/219)۔
وفی بدائع الصنائع: (ولنا):أنها إذا وجدت محرما فقد استطاعت إلى حج البيت سبيلا؛ لأنها قدرت على الركوب، والنزول وأمنت المخاوف؛ لأن المحرم يصونها، وأما قوله: " إن حق الزوج في الاستمتاع يفوت بالخروج إلى الحج "، فنقول: منافعها مستثناة عن ملك الزوج في الفرائض كما في الصلوات الخمس، وصوم رمضان، ونحو ذلك حتى لو أرادت الخروج إلى حجة التطوع فللزوج أن يمنعها كما في صلاة التطوع، وصوم التطوع، وسواء كانت المرأة شابة أو عجوزا فإنها لا تخرج إلا بزوج أو محرم؛ لأن ما روينا من الحديث لا يفصل بين الشابة، والعجوز اھ(2/124)۔