السلام علیکم مفتی صاحب!
میں گجرانوالہ کا رہائشی ہوں، لیکن جاب کےلئے میں لاہور رہتا ہوں، ہر پیر کو میں جاب کیلئے آفس یعنی لاہورآتا ہوں اور ہفتے والے دن واپس گھر یعنی گوجرانوالہ چلا جاتا ہوں، اب میرے گھر سے آفس کا سفر 80 کلو میٹر ہے، پوچھنا یہ ہے کہ میں آفس میں قصر نماز پڑھوں گا یا کہ پوری نماز پڑھوں گا؟
سائل نے اگر اب تک لاہورشہرمیں پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو تو لاہور شہر اس کیلئےوطنِ اقامت نہیں بنا، لہذا اپنے شہرسے نکلنے کےبعد راستہ میں اور لاہور شہر میں رہائش کے دوران اپنی انفرادی نماز میں قصر کرنا سائل پر لازم ہے۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: قال أصحابنا: إن فرض المسافر من ذوات الأربع ركعتان لا غيرا۔ (91/1)۔
وفيه ايضاً: وأما بيان ما يصير به المقيم مسافرا فالذي يصير المقيم به مسافرا نية مدة السفر والخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثة أشياء: أحدها مدة السفر وأقلها غير مقدر عند أصحاب الظواهر ، وعند عامة العلماء مقدر ، واختلفوا في التقدير قال أصحابنا: مسير ثلاثة أيام سير الإبل ومشي الأقدام وهو المذكور في ظاهر الروايات وروي عن أبي يوسف يومان وأكثر الثالث، وكذا روى الحسن عن أبي حنيفة وابن سماعة عن محمد ومن مشايخنا من قدره بخمسة عشر فرسخا وجعل لكل يوم خمس فراسخ، ومنهم من قدره بثلاث مراحل۔(93/1)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4