مفتی صاحب بات یہ ہے کہ پچھلے دنوں میں گولڈ کا بسکٹ خریدنے کی غرض سے جانے والا تھا لیکن وہ پیسے میرے ایک دوست نے ادھار کے طور پر مجھ سے مانگ لیے اور واپسی کا یہ طریقہ کار رکھا کہ جس دن وہ پیسے واپس کرے گا اسی دن کے حساب سے جو وہ بسکٹ میں لینا چاہتا تھا وہ اتنی ہی رقم واپس کرے گا تاکہ جو بسکٹ میں لے رہا تھا وہ میں لے لوں اور دوست کا مسلہ بھی حل ہوجاے کیا یہ طریقہ کار درست ہے اس میں کوئی اعتراض تو نہیں؟
سائل کا اپنے دوست کو قرض دیتے وقت مذکور رقم کی واپسی کو سونے کے بسکٹ کی قیمت کے ساتھ معلق کرنا درست نہیں تھا،لہذا سائل صرف اسی رقم کا مستحق ہےجو اس نے اپنے دوست کو دی ہے،رقم میں اضافہ یا کمی کرناسود کے زمرہ میں داخل ہونے کی وجہ جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0