السلام علیکم!
سوال یہ ہے کہ ہم ایک گھر گروی لینا چاہتے ہیں، مگر وہ گھر مالکِ مکان نے کرائے پر دیا ہوا ہے، مالک ِمکان کو پیسوں کی ضرورت ہے، اس کا کہنا یہ ہے کہ تم مجھے رقم دے دو، اور پانچ سال تک مکان کا کرایہ تم وصول کرو پانچ سال بعد میں تمہاری اصل رقم تمہیں واپس کر دونگا ،میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ اس میں سود کی کوئی قسم تو نہیں پائی جا رہی ؟ مہربانی فرما کر فتویٰ دیں اس بارے میں ۔
واضح ہو کہ قرض دے کر اس پر کسی بھی قسم کا نفع حاصل کر ناشر عاًسود ہے، جس پر قرآن وحدیث میں سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا سائل کا قرض دے کر مر ہو نہ گھر کا کرایہ اپنے استعمال میں لانا شرعاً سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہ ِکبیرہ ہے ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين: لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم. قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة وما في المعتبرات على الحكم ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ ما في المنح ملخصا اھ (5/ 166)۔
وفي النتف في الفتاوى للسغدي: انواع الربا واما الربا فهو ثلاثة اوجه احدها في القروض والثاني في الديون والثالث في الرهون الربا في القروض فاما في القروض فهو على وجهين احدها ان يقرض عشرة دراهم باحد عشر درهما او باثني عشر ونحوها والآخر ان يجر الى نفسه منفعة بذلك القرض او تجر اليه وهو ان يبيعه المستقرض شيئا بارخص مما يباع او يؤجره او يهبه (إلی قوله) ولو لم يكن سبب ذلك هذا القرض لما كان ذلك الفعل فان ذلك ربا وعلى ذلك قول ابراهيم النخعي كل دين جر منفعة لا خير فيه اھ (1/ 484)۔
وفى بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب اھ (7/ 395)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0