احکام حج

حج سے واپسی پر عمومی دعوت کا اہتمام کرنا

فتوی نمبر :
59046
| تاریخ :
2007-01-23
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج سے واپسی پر عمومی دعوت کا اہتمام کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدین حج پر گئے ہیں، واپسی ان شاء اللہ ۸/۲/۲۰۰۶ کو ہوگی، ہماری قوم میں یہ رواج ہے کہ حاجیوں کے آنے پر ایک بہت بڑی دعوت کی جاتی ہے، قوم کے لوگوں کو ، پڑوسیوں کو بلایا جاتا ہے اور ساتھ میں ہر آدمی کو آبِ زم زم و ایک جوڑی تسبیح، کھجور اور کئی کو جائے نماز، اور کچھ کو یعنی کچھ عورتوں کو کپڑے وغیرہ دیئے جاتے ہیں، دعوت شاید اس نیت سے بھی کی جاتی ہے کہ ایک ایک آدمی مبارکباد کے لیے آئےگا، اس میں تکلیف و ٹائم وغیرہ برباد ہوگا، لہذا لوگوں کو بلاکر ایک ہی دفعہ میں نمٹا دیا جائے، تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس دعوت کرنے سے حاجیوں کا حج خراب ہوگا یا نہیں؟ یہ دعوت حرام ، ناجائز ہے یا نہیں؟ گناہ ہے یا نہیں؟ اگر تھوڑی تفصیل سے بتا دیا جائے تو مہربانی ہوگی اور براہِ مہربانی والدین کی واپسی کی تاریخ بہت قریب ہے، جلد جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور امور اگرچہ فی نفسہ جائز ہیں اور ان کے اہتمام سے حج کی صحت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا،مگر ان کو لازم سمجھ کر کرنا محض ایک رسم ہے، جس سے احتراز چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی حاشية ابن عابدين:وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. (2/ 241)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59046کی تصدیق کریں
0     1568
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات