اگر کوئی قرضہ لیتا ہے کسی دوسرے سے اور قرض لینے والا مقرّر تاریخ پر پیسے دینا بھول جاتا ہے اور اس کے ساتھ قرض دینے والا اسے پیسوں کے بارے میں پوچھتا بھی نہیں ہے، ادھار دینے والے کے بارے میں کیا فضائل ہیں؟ کیا اسلامک بینک میں کام کرنے کی اجازت ہے؟ جبکہ دارالعلوم کراچی کے فتوی کے مطابق اسلامک بینک میں کام کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
قرض دار کے ساتھ نرمی اور مہلت والا معاملہ رکھنا باعثِ ثواب کام ہے اور احادیثِ مبارکہ میں آپ ﷺ سے اس پر بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس کو یہ بات پسند ہو کہ قیامت کےدن کی سختیوں سے اللہ اسے نجات عطاء فرمائے تو اسے چاہیئے کہ غریب نادار مقروض کو مہلت دیکر آسانی والا معاملہ کرے یا قرض ہی معاف کردے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی تنگ دست پر آسانی کا معاملہ کرے اللہ تعالی اس کے ساتھ دنیا وآخرت میں آسانی والا معاملہ فرمائیں گے،جبکہ بینک اسلامی کے نام سے ہو یا غیر اسلامی اس میں ناجائز امور کی انجام دہی سے متعلق ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں۔
کما فی الترغیب: عن ابی قتادۃ رضی اللہ عنہ انہ طلب غریما ( الی قولہ) فانی سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من سرہ ان ینجیہ اللہ من کرب یوم القیامۃ فلینفس عن معسرا ویضع عنہ رواہ مسلم(2/41)۔
وفیہ ایضاً: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ من یسر علی معسر یسر اللہ علیہ فی الدنیا والاخرۃ رواہ ابن حبان فی صحیحہ (2/41)۔
و فی الدر المختار: (لاتصح الاجارۃ لعسب التیس) وھو نزوہ علی الاناث (و) لا (لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی الخ (6/55)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0