سوال یہ ہے کہ زید مجبور ہے، عمرو نے اس کے لئے ڈالر خریدے دو لاکھ روپے کے اور زید کو ڈالر دے دیے اور عمرو نے زیدکو بتایا کہ ایک سال بعد آپ مجھے تین لاکھ روپے دوگے تو کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟
عمرو نے اگر قرض کے طور پر زید کو ڈالر دیے ہوں تو ایسی صورت میں زید کے ذمہ عمرو کو اتنے ہی ڈالر کی واپسی کرنی لازم ہوگی، جبکہ اس سے زائد ڈالر کی واپسی کا مطالبہ کرنا بوجہ سود کے ناجائز وحرام ہوگا، البتہ اگر باہمی رضامندی سے ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے واپس کرنے کا معاہدہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں واپسی کے وقت ڈالر کی جو قیمت ہو زید کے ذمہ اتنی مقدار میں روپے دینے لازم ہونگے، اس سے زیادہ کی ادائیگی اس کے ذمہ لازم نہ ہوگی اور نہ ہی عمرو کے لئے زیادتی کا مطالبہ جائز ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر (كما جاز بيع لحم بحيوان ولو من جنسه) الخ (5/179)۔
و فی الھندیۃ: ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم (الی قولہ) و أن یکون مملوکا فی نفسہ و أن یکون ملک البائع فیما یبیعہ لنفسہ فلا ینعقد بیع الکلإ ولو فی ارض مملوکۃ لہ ولا بیع ما لیس مملوکا لہ (الی قولہ) و أما شرائط النفاذ فنوعان أحدھما الملک أو الولایۃ اھ (3/2)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0