کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دوبڑے شہروں کے متصل ہونے کی صورت میں سفر وقصر کے شرعی احکام اور ایک شہر دوسرے شہر سے کس طرح ممتاز ہوگا ؟ شرعاً وقانوناً اور عرفاً ، اس کی وضاحت مطلوب ہے، نیز علماء کا اختلاف ، راجح مسلک اور اس کی ترجیح بیان فرما دیں۔ بیّنوا وتوجروا
اگر دو یا زیادہ بڑے شہر ایسے ہیں کہ جن کی آبادی تو آپس میں متصل ہو گئی ہے، لیکن عرفاً ہر شہر کو مستقل نام سے پکارا جاتا ہے اور ہر شہر کی حدّ مقرر ہے تو ہر شہر کی مقررہ حد سے گذرنے پر سفر کے احکام جاری ہوں گےاور اگر ہر شہر کا نہ تو مستقلاً علیحدہ نام رہا اور نہ ہی کوئی حد مقرر ہے، بلکہ ایک ہی شہر کے مختلف محلوں کی طرح سمجھے جاتے ہیں تو تمام آبادی سے نکلنے کے بعد سفر کے احکام جاری ہوں گے۔
فی الفقه الإسلامي وأدلته: فقال الحنفية: أن يجاوز بيوت البلد التي يقيم فيها من الجهة التي خرج منها، وإن لم يجاوزها من جانب آخر. وأن يجاوز كل البيوت ولو كانت متفرقة متى كان أصلها من البلد، وأن يجاوز ما حول البلد من مساكن، والقرى المتصلة بالبلد. (2/ 1350)۔
وفیه أیضاً: وقال الحنابلة (إلی قوله) ولو كان للبلد محال، كل محلة منفردة عن الأخرى، كبغداد في الماضي، فمتى خرج من محلته، أبيح له القصر إذا فارق أهله. وإن كان بعضها متصلاً ببعض كاتصال أحياء المدن المعاصرة، لم يقصر حتى يفارقها جميعها. ولو كانت قريتان متدانيتين (متقاربتين)، واتصل بناء إحداهما بالأخرى، فهما كالواحدة، وإن لم يتصل بناؤهما، فلكل قرية حكم نفسها. (2/ 1353)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4