(۱)۔ کیا فرماتے ہے علماءِ کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ذکر بالجہر اجتماعاً اور انفراداً جائز ہے یا نہیں؟ جواز کی کوئی صورت بتلائیں۔
(۲)۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت ہے کہ آپ مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو ذکر بالجہر کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے ان حضرات کو مسجد سے نکال دیا، کیا یہ صحیح ہے ؟
(1)۔ اگر ذکر بالجہر سے ریا و نمود مقصود نہ ہو اور اس کی وجہ سے مریض ،سوئے ہوئے شخص کے آرام اور دیگر عبادات میں مشغول لوگوں کی عبادات میں خلل نہ پڑتا ہو تو ذکر بالجہر خواہ انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر بہر دو صورت جائز ہے ، مگر ذکر بالسر بلاشبہ بہتر و افضل ہے اور اسی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(2)۔ جی ہاں! یہ واقعہ کتب میں موجود ہے، مگر یہ جہرِ مضر پر محمول ہے ۔
فی الفتاوی الھندیۃ : قاض عنده جمع عظيم يرفعون أصواتهم بالتسبيح و التهليل جملة لا بأس به ، و الإخفاء أفضل، و لو اجتمعوا في ذكر الله تعالى و التسبيح و التهليل يخفون ، و الإخفاء أفضل عند الفزع في السفينة أو ملاعبتهم بالسيوف اھ(5/315)۔
و فی تکملة فتح الملھم : و دل الحدیث علی استحباب الاسرار و المخافتة بالذکر و الدعاء و ھو موافق لقوله تعالی "ادعوا ربکم تضرعا و خفية" و من ھنا ذکر العلماء ان الذکر الخفی افضل من الذکر بالجھر و ان کان الجھر جائزاً بشرط ان لایکون فیه ریاء و بشرط ان لایکون فیه ایذاء لأحد ،و یستثنی منه رفع الصوت بالتکبیر فی الجھاد فان المقصد منه علی کونه ذکرا مثابا ارھاب العدو و القاء الرعب فی صدرہ و انما نھاھم النبی صلی الله علیه و سلم ھنا لان ھذا الجھر لم یکن بمحضر من العدو و انما کان المقصود منه الذکر فقط و الاخفاء فی ذلك افضل و لاسیما اذا کان بمحضر من اناس مشتغلین بامورھم فان ذلك ربما یودی الی تعطلھم عن حاجاتھم و قد ذکرنا ان الجھر فی مثل ھذا الحال لایجوز اھ (5/566)۔
و فی الدر : ھل یکرہ رفع الصوت بالذکر و الدعاء ؟قیل نعم اھ و فی رد المحتار : اضطرب كلام البزازية فنقل أولا عن فتاوى القاضي أنه حرام لما صح عن ابن مسعود أنه أخرج جماعة من المسجد يهللون و يصلون على النبي صلى الله عليه وسلم جهرا و قال لهم " ما أراكم إلا مبتدعين " ثم قال البزازي و ما روي في الصحيح أنه عليه الصلاة والسلام قال لرافعي أصواتهم بالتكبير «اربعوا على أنفسكم إنكم لن تدعوا أصم و لا غائبا إنكم تدعون سميعا بصيرا قريبا إنه معكم» الحديث يحتمل أنه لم يكن للرفع مصلحة (الی قوله)و حمل ما في فتاوى القاضي على الجهر المضر (الی قوله) زاد في التتارخانية : و أما رفع الصوت عند الجنائز فيحتمل أن المراد منه النوح أو الدعاء للميت بعد ما افتتح الناس الصلاة أو الإفراط في مدحه كعادة الجاهلية مما هو شبيه المحال اھ (6/398)۔