السلام علیکم!میں کویت میں رہتاہوں اور میں صرف وضو کے طریقہ کے متعلق پوچھنا چاہتاہوں ،کیونکہ جب میں پاکستانیوں کو عرب کی طرح وضوکرتے دیکھتا ہوں، تو جہاں تک میرا خیال ہے وہ احناف کے مطابق کرتے ہیں ،وضو کے چار فرائض ہیں اگر ایک بھی چھوٹ جائے تو وضو نامکمل ہوگا ۔تو کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم کاٹن اور اُون کے موزوں پر مسح کریں، کیا ایسا کرنے سے وضوہوجائے گا؟ مہربانی مجھے بتادیں۔
واضح ہو کہ کاٹن اور اُون کی وہ عام جرابیں اور موزے جو سردی اور گرمی میں پہنے جاتے ہیں ،عند الاحناف ان پر مسح کرنا جائز نہیں۔ البتہ چمڑے کے موزے یا وہ اُونی اور کاٹن کے موزے جن کے اُوپر چمڑا لگا ہواہو اور اتنے موٹے اور گاڑھے ہوں، جن سے نہ تو پانی چھنتا ہو اورنہ وہ پہن کر پیدل دو چار میل چلنے سے پھٹتے ہوں اور پہننے کے بعد کسی دھاگے یا لاسٹک وغیرہ کے استعمال کے بغیر وہ پنڈلی پر ٹھہر سکتے ہوں، تو ایسے موزوں پر بھی مسح کرنا جائز ہوگا اور اگر یہ شرائط نہ پائی جائیں جیساکہ عموماً ہوتاہے ،تو ایسے موزوں پرمسح کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی القرآن الکریم: ﴿یا ایّها الذین اٰمنوْا اذا قمتم الی الصلٰوة فاغسلوا وجوهکم وایدیکم الی المرافق وامسحو برؤسکم وارجلکم الی الکعبین﴾ (المائدة، آیت: ۶)
وفی إعلاء السنن: عن المغیرة بن شعبة قال توضأ النبیﷺ ومسح علی الجوربین والنعلین اھ
قال المؤلف: قلت لان المسح علی الجوربین ثبت بخبر الواحد وغسل الرجلین قطعی فلا یکون المسح علی الجوربین بدلا عنه الا اذا کان الجورب کالخف الثابت مسحه بالتواتر (الٰی قوله) قد روی الامام ابوبکر بن ابی شیبة فی مصنفه هشیم قال اخبر یونس عن الحسن وشعبه عن قتادة عن سعید بن المسیب والحسن انهما قالا یمسح الجوربین اذا کانا صفتین ورجاله رجال الجماعة اھ (۱/ ۲۴۳)