کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) ایک خاتون کے ۱۴ بچے ہیں جن میں سے ۸ زندہ ہیں اور ۶ فوت ہوچکے ہیں ، اور یہ جو ۶ فوت ہوچکے ہیں وہ اس طرح فوت ہوئے ہیں کہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے پیدا ہوجاتے ہیں یعنی سات اور آٹھ مہینوں میں ، اور پیدا ہوتے ہی ان کے جسم پر کالے یا نیلے نشانات ہوتے ہیں یا تو وہ بطن میں ہی فوت ہوجاتے ہیں یا پھر پیدا ہونے کے بعد ایک دو گھنٹے حیات رہتے ہیں پھر مرجاتے ہیں ، اور یہ عورت دورانِ حمل سانس کی بیماری کا شکار رہتی ہے یعنی کبھی کبھی سانس بند ہوجاتا ہے ، اور ڈاکٹروں کے بقول ان کو اندرونی بیماری ہے جس کے علاج پر کافی خرچ آ تا ہے اور ان میں علاج کی استطاعت نہیں ہے اس لئے اس صورتحال میں ان کیلئے آپریشن کے ذریعے انقطاعِ نسل کروانا جائز ہے یا نہیں ؟
(۲)مسافر پر ، ۱۵ دن سے کم کی نیت پر نماز قصر کرنے کا حکم ہے، اور اگر ایک خاتون ایسی ہو جس کی پیدائش پنجاب میں ہوئی ، اس کے بعد اس کے والدین کی رہائش کراچی میں ہوگئی اور اس کو کراچی میں ۳۰ سے ۳۵ سال کا عرصہ گزر چکا ہے ، پھر اس خاتون کی شادی پنجاب میں ہوگئی ،اس کی رہائش مکمل طور پر وہیں کی ہے تو اب اگر وہ ملنے کیلئے یعنی اپنے والدین سے ملنے کیلئے آئے تو کیا وہ نماز قصر کرے گی یا نہیں؟ کیونکہ والدین کا اصل وطن بھی پنجاب ہے اور اس کا بھی۔
(۳) کسی نے ایک گاڑی خریدی قسطوں پر ، تقریباً پانچ لاکھ کی ، اب جنہوں نے یہ گاڑی چونکہ کراچی میں خریدی تھی اور وہ وہاں سے کسی اور صوبے میں چلے گئے اور قسطیں ادا نہ کرسکے ، تو وہ رقم قسطوں سے بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہوگئی ، کیونکہ قسطیں وقت پر ادا نہ کرنے پر ان پر سود چڑھ گیا حکومت کی طرف سے ، اب ان کو یہ قسطیں ادا کرنی پڑیں جن میں سود بھی تھا ، تو اس کے بارے میں مفتیانِ کرام کیا فرماتے ہیں کہ وہ ان قسطوں کے ساتھ سود دیں گے یا نہیں؟ کیونکہ سود نہ دینے کی صورت میں حکومت ان کی گاڑی لے سکتی تھی تو اضطرار کی حالت میں ان کا یہ سود دینا جائز ہوگا یا نہیں ؟
(۱) ایسی صورت میں بھی ضبطِ ولادت کیلئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا ، جس سے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ہی ختم ہوجائے خواہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے قطعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ بعض مجبوریوں کی بناء پر کسی دیندار اور ماہر معالج کے مشورہ سے عارضی طور پر موانعِ حمل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں اور صورتِ مسئولہ میں بھی اس عمل کی گنجائش ہے
(۲) عورت شادی کے بعد جب شوہر کے وطن میں مستقلاً رہائش اختیار کرلے تو شوہر کا وطن اس کیلئے وطنِ اصلی ہوجاتا ہے ، اب اگر اس کے والدین کا وطن مسافتِ سفر پر ہو تو پندرہ دن سے کم آنے کی صورت میں اُس پر قصر لازم ہے ورنہ اِتمام۔
(۳) سود کا لینا اور دینا دونوں امور شرعاً ناجائز اور حرام ہیں اور ان سے احتراز لازم ہے ، اسی طرح سوال میں مذکور صورت اضطراری بھی نہیں کہ اس کی وجہ سے حرامِ شرعی کا ارتکاب جائز اور حلال ہوجائے ، لہٰذا محض تصوراتی اضطرار کو واقعی اضطرار پر محمول کرکے حرامِ شرعی کے جائز اور حلال کرنے کی کوشش سے بھی احتراز ضروری ہے۔
و فی الفقہ الاسلامی : یجوز استعمال موانع الحمل الحدیثۃ کالحبوب و غیرہا لفترۃ موقّتۃ دون أن یترتب علیہ استیصال إمکان الحمل و صلاحیۃ الإنجاب قال الزرکشیؒ یجوز استعمال الدّواء لمنع الحمل فی وقت دون وقت کالعزل و لا یجوز التداوی لمنع الحمل بالکلیّۃ۔(ج۳، ص۵۵۵)۔
و فی الہدایۃ : و لا یزال علی حکم السفر حتی ینوی الإقامۃ فی بلدۃ أو قریۃ خمسۃ عشر یومًا أو اکثر و إن نوی أقل من ذالک قصر۔(ج۱، ص۱۲۵)۔
قال اللہ تعالی : أَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔ (سورۃ البقرۃ: آیت ۲۷۵)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4