کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی حج پر جاتا ہے تو جانے سے پہلے رسماً دعوت کرتا ہے ، لوگوں کو جمع کرتا ہے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے، پھر لوگ اُسے ائیر پورٹ تک چھوڑنے جاتے ہیں، ہار وغیرہ پہناتے ہیں، کیا حج پر جاتے ہوئے یہ سب امور انجام دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
مذکو رہ امور اگر چہ فی نفسہ جائز ہوں ، مگر اس کو لازم سمجھ کر کرنا محض ایک رسم ہے، جس سے احتراز چاہیے۔
ففی مرقاة المفاتيح: و في رواية لمسلم: (من عمل عملا) أي من أتى بشيء من الطاعات أو بشيء من الأعمال الدنيوية و الأخروية سواء كان محدثا أو سابقا على الأمر ليس عليه أمرنا، أي: وكان من صفته أنه ليس عليه إذننا بل أتى به على حسب هواه فهو رد اھ (1/ 222)۔
و فی حاشية ابن عابدين: و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ (2/ 241)۔