کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک رواج ہےکہ لوگ نکاح میں مہر کے علاوہ پیسے لیتے ہیں، یعنی مہر مقرر کر کے اس کے علاوہ وہ رقم کو بھی مقرر کرتے ہیں اور اس رقم کے وصولی کے بغیر شادی نہیں کرتے ہیں اور وصولی کے بعد وہ رقم کچھ لڑکی کے لیے جہیز میں صرف کرتے ہیں اور باقی خود استعمال کرتے ہیں۔
کیا وہ یہ رقم مہر کے علاوہ لے کر خود استعمال کرسکتے ہیں؟ نیز اگر لے کر لڑکی پر صرف کریں تو جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرما کر جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور طریقہ کے مطابق اس رقم کا لینا محض علاقائی اور قومی رسم رواج کے علاوہ کچھ نہیں، بلکہ بدعتِ محض ہے جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر لڑکے والے صاحبِ وسعت ہوں اور وہ اپنی مرضی و خوشی سے، بلاجبر و اکراہ کے اور غیرلازم سمجھتے ہوئے لڑکی والوں کا کچھ تعاون کرلیں تو اس کے لینے اور دینے کی گنجائش ہےاور جہاں اس لینے دینے کو ضروری سمجھا جاتا ہو وہاں یہ معاملہ کرنے سے احتراز بہتر ہے۔لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ حکمت و بصیرت کے تحت اہلِ علاقہ کو اس رسمِ بد سے نجات دلانے میں پوری کوشش کرے۔
ففی الدر المختار: (أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة.
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة بزازية. (3/ 156)۔