کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک مصیبت زدہ عورت ہوں، میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ میری قسمت بدل دے ، اگر ایسا نہ ہو تو میں کیا کروں؟
اگر کسی انسان پر کچھ حالات یعنی ’’پریشانی، مشقت، مصائب اور تکالیف‘‘ وغیرہ آجائیں تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اس طور پر کہ اپنے تمام گناہوں پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ واستغفار کیا جاۓ ، آئندہ کےلیے گناہوں سے بچنے کاپختہ عزم کریں، اپنی زندگی کو سنتِ نبویہ کے مطابق ڈھالنے کے مکمل کوشش کریں اور ساتھ ساتھ یہ دعا کیا کریں کہ اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، پس ہمیں بھی معاف فرما دے اور ہمارے ساتھ دنیا و آخرت میں عافیت والا معاملہ فرما دے۔ تبدیلی قسمت کی دعا کرنا اور جزع وفزع کرنا درست نہیں، لہٰذا مذکور رویّہ سے احتراز لازم ہے۔
ففی سنن ابن ماجه: عن عبد الله بن عباس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم- : «من لزم الاستغفار جعل الله له من كل هم فرجا ، و من كل ضيق مخرجا، و رزقه من حيث لا يحتسب»(2/ 1254)۔
و فی سنن أبي داود: عن ابن عباس، أنه حدثه، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم- : «من لزم الاستغفار، جعل الله له من كل ضيق مخرجا ، و من كل هم فرجا، و رزقه من حيث لا يحتسب»(2/ 85)۔
و فی السنن الكبرى للبيهقي: عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هُمٍّ فَرَجًا، وَ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَ رَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ "(3/ 490)۔
و فی سنن أبي داود: حدثني أبي عمر بن مرة ، قال: سمعت بلال بن يسار بن زيد، مولى النبي - صلى الله عليه وسلم- قال: سمعت أبي، يحدثنيه عن جدي، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من قال: أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم، وأتوب إليه، غفر له، وإن كان قد فر من الزحف " (2/ 85)۔