رسومات شادی بیاہ

شادی کے موقع پر پیسے پھینکنے اور ان کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
61047
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / رسومات شادی بیاہ

شادی کے موقع پر پیسے پھینکنے اور ان کے استعمال کا حکم

السلام علیکم!
ہمارے سیالکوٹ میں ایک عجیب رواج بن چکاہے کہ شادیوں پر موبائل، ڈالر اور بہت سا روپیہ لٹاتے پھینکتے ہیں , سوال یہ ہے کہ کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟ اور کیا اس لوٹ مار (اس وقت واقعی لوٹ مار کی حالت ہوتی ہے) سے حاصل کیے گئے ڈالر، روپیہ اور موبائل وغیرہ کو استعمال کیا جاسکتاہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شادی بیاہ میں مروجہ طریقوں پر پیسے لٹانا اور پھینکنا فضول خرچی (اسراف) کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں جس کی وجہ سے اس عمل کا ارتکاب کرنے والا شخص گناہ گار ہورہاہے جس سے بہر صورت اجتناب اور ایسی خوشی کے مواقع میں شرعی حدود کی پاسداری شرعاً لازم اور ضروری ہے، تاہم اس طریقہ پر لٹائی جانے والی رقم اور اشیاء عموماً جمع کرنے والوں کا حق تسلیم کیا جاتاہے اس لئےان کے لئےاسے اپنے استعمال میں لانے میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالٰی: ﴿یا بنی آدم خذوا زینتکم عند کلّ مسجد وّکلوا واشربوا ولا تسرفوا انّه لا یحبّ المسرفین﴾ (الاعراف: ۳۱)-
وفی تفسیر القرطبی: وقد اختلف فی الزائد علی قدر الحاجة علی قولین: فقیل حرام، وقیل مکروه، قال ابن العربی: وهو الصحیح، (۷/ ۱۹۱)-
وفیه ایضًا: ولا تسرفوا ’’ای فی کثرة الأکل، وعنه یکون کثرة الشرب، وذلك یثقل المعدة، ویثبط الإنسان عن خدمة ربه، والأخذ بحظه من نوافل الخیر، فإن تعدی ذلك إلی ما فوقه مما یمنعه القیام الواجب علیه حرم علیه، فإن تعدی ذلك إلی ما فوقه مما یمنعه القیام الواجب علیه حرم علیه، وکان قد أسرف فی مطعمه ومشربه. (۷/ ۱۹۴)-
وفی صحیح البخاری: قول اللہ تعالٰی: ﴿قل من حرّم زینة اللہ الّتی اخرج لعباده﴾ (الاعراف: ۳۲) وقال النبیﷺ: ’’کلوا واشربوا والبسوا وتصدقوا، فی غیر اسراف ولا مخیلة‘‘ وقال ابن عباس: کل ما شئت، والبس ما شئت (ص: ۱۴۱) ماأخطأتك اثنتان: سرف، أو مخیله‘‘ (۷/ ۱۴۰)-
وفی الموسوعة الفقهیة الکویتیة: یختلف حکم الإسراف بحسب متعلقه، کما تبین فی تعریف الإسراف، فذهب بعض الفقهاء إلی أن صرف المال الکثیر فی أمور البر والخیر والإحسان لا یعتبر إسرافا، فلا یکون ممنوعا أما صرفه فی المعاصی والترف وفیما لا ینبغی فیعتبر إسرافا منهیا عنه، ولو کان المال قلیلًا. (۴/ ۱۷۸)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 61047کی تصدیق کریں
0     2102
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے موقع پر رخصتی کے وقت دلہن کے سر پر قرآن کا سایہ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   رسومات شادی بیاہ 1
  • لڑکی کی پاکیزگی معلوم کرنے کیلئے شادی کی رات کپڑا دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   رسومات شادی بیاہ 0
  • مسجد میں شادی کی ڈولی رکھنا اور کرائے پر دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   رسومات شادی بیاہ 0
  • دولہا کے سر سہرا باندھنا اور سونے کی انگوٹھی پہنانا

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • رشتہ داروں کی ناراضگی کے خوف سے غیر شرعی تقریبات میں شرکت کرنا

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 1
  • طے شدہ مہر کے علاوہ لڑکی والوں کا رقم لینا

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • رخصتی کے وقت لڑکی کے سر پر قرآن کا سایہ کرنا

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • شادی کے موقع کی مختلف رسومات کا حکم

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • کیا سب رشتہ داروں کو شادی میں بلانا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • شادی پر بیوی کو ملنے والا سونا کس کی ملکیت ہے؟

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • ویزہ کے حصول کیلئے جعلی رخصتی کروانا

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • رخصتی کےوقت دلہن کے سر پر قرآن رکھنا

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • شادی کے ضروری مسائل جاننے کے لئے مختلف کتب کے نام

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • شادی بیاہ کے متعلق کتب کے نام

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • شادی میں بیوی کی تصویر اپنے موبائل کی حدتک لینا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • تقریبِ نکاح کے بعد کھجور کھلانا اور مبارک باد دینا سنت سے ثابت ہے ؟

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • شادی کے موقع پر سہرا بندی کی رسم کا حکم

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • شادی کے موقع پر پیسے پھینکنے اور ان کے استعمال کا حکم

    یونیکوڈ   رسومات شادی بیاہ 0
  • رضاعی بہن سے نکاح کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انگلش   رسومات شادی بیاہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات