امام کو اپنے وضو میں شک ہوجائے ، دورانِ نماز ، لیکن وہ نماز مکمل کرادے ، پھر بعد میں یقین ہوجائے کہ وضو ٹوٹ گیا ہے اور شرم کی وجہ سے لوگوں کو نہ بتا سکا ، تو اب وہ کس طرح کفارہ ادا کرے ، مقتدی لوگوں کی نماز کا کیا فدیہ ادا کرے ؟ سب کی نمازوں کا؟
مذکور امام کو اگر دورانِ نماز وضو کے ٹوٹنے میں شک تھا اور نماز کے بعد وضو ٹوٹنے کا یقین ہوگیا تھا ، تو ایسی صورت میں وہ نماز درست ادا نہیں ہوئی ، لہذا مذکور امام پر لازم ہے کہ مختلف نمازوں میں اعلان کرے کہ فلاں دن کی فلاں نماز درست ادا نہیں ہوئی ، لہذا جو لوگ اس نماز میں شریک تھے وہ اپنی نماز لوٹا دیں ، جبکہ اس کے بدلے فدیہ دینا درست نہیں۔
کما فی الدر المختار : (و إذا ظهر حدث إمامه) و كذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها) لتضمنها صلاة المؤتم صحة وفسادا (كما يلزم الإمام إخبار القوم إذا أمهم وهو محدث أو جنب) أو فاقد شرط أو ركن اھ (591/1)
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0