احکام حج

حج فرض ہونے کے بعد استطاعت کا نہ رہنا

فتوی نمبر :
62418
| تاریخ :
2023-02-20
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج فرض ہونے کے بعد استطاعت کا نہ رہنا

2020میں والدہ کے ہمراہ حج درخواست جمع کروائی تھی جس کی رقم 972000 تھی ، دونوں کی ،مگر کو رونا کی وجہ سے حج محدود ہو گیا،2021 میں بھی مقامی افراد نے نہ کیا 2022 میں 65 سال عمر کی حد ہونے کی وجہ سے درخواست نہیں دی کیونکہ والدہ کی عمر 65 سال سے زائد تھی ، 2023 میں ایک فرد کا خرچہ 11 لاکھ آ رہا ہے میرےلیے اتنے پیسے جمع کرنا مشکل ہے، صرف 1 درخواست کے پیسے ہو سکتے ہیں ، والدہ اکیلے نہیں جاسکتیں، موجودہ صورتحال میں شرعی حکم کیا ہو گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور اس کی والدہ پر مالی استطاعت کی بناء پر حج فرض ہو گیا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے حج پر نہ جاسکے ہوں تو اس سے حج کا فریضہ ساقط نہیں ہوا ،بلکہ بدستور دونوں کے ذمہ میں باقی ہے، لہذا جلد سے جلد اپنا فرض حج ادا کرکےفریضہ حج سے سبک دوش ہونا چاہیئے ، تاہم اگر سائل اور اس کی والدہ فرض حج ادا کر چکے ہوں، لیکن اس کے باوجود نفلی حج کرنا چاہتے ہوں تو جب بھی دونوں کے حج کا انتظام ہو جائے اس وقت حج کر سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة :بخلاف ما لو ملكه مسلما فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر الحج في ذمته دينا عليه كذا في فتح القدير اھ
و فیھا أیضاً : وهو فرض على الفور، وهو الأصح فلا يباح له التأخير بعد الإمكان إلى العام الثاني كذا في خزانة المفتين. فإذا أخره، وأدى بعد ذلك وقع أداء كذا في البحر الرائق وعند محمد - رحمه الله تعالى - يجب على التراخي والتعجيل أفضل كذا في الخلاصة اھ (1/216)۔
و فی غنیة الناسک : و کذالک لو لم یحج حتٰی افتقر ، تقرر وجوبہ دینا فی ذمتہ بالاتفاق ،و لا یسقط عنہ بالفقر اھ (33)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62418کی تصدیق کریں
0     955
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات